کراچی میں بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر 2 گروپوں کے درمیان جھگڑے کے دوران ہوائی فائرنگ کے واقعے کو 2 روز گزر گئے، تاہم مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے کے اندراج کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کے کسی بھی دھڑے کی جانب سے تاحال رابطہ نہیں کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رابطہ ہونے پر فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا جائے گا، جبکہ اگر کسی دھڑے نے رابطہ نہ کیا تو سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کا متن تیار کر لیا گیا ہے اور اعلیٰ پولیس افسران کی اجازت ملتے ہی مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج مقدمے کے اندراج کا امکان ہے، جبکہ مقدمہ درج ہونے کے بعد زیر حراست افراد کی گرفتاری ظاہر کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر جھگڑے اور فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث کئی افراد کو چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے، جن میں کئی اہم نام بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق اتوار کو ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر ایک گروپ اجلاس کر رہا تھا کہ دوسرے گروپ نے دھاوا بول دیا، جس کے بعد دونوں گروپوں کے کارکنان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور فائرنگ کی گئی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہاتھ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ بہادرآباد میں مارکیٹیں اور دکانیں بھی بند ہو گئی تھیں۔
اتوار کی شب جھگڑے اور فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کے بعد سانحہ بلدیہ کیس میں حال ہی میں بری ہونے والے رحمٰن عرف بھولا کو نارتھ ناظم آباد میں گھر سے حراست میں لے لیا گی۔
رحمٰن عرف بھولا کو گھر سے حراست میں لیجانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں سادہ لباس ، پولیس وردی میں ملبوس اہلکار اور خواتین اہلکار بھی شامل تھیں رحمٰن عرف بھولا کو اپنے ہمراہ لیجاتے ہوئے دکھائی دیئے تاہم رات گئے تک رحمٰن بھولا کو حراست میں لیے جانے کے حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے کوئی اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بہادر آباد میں قائم عارضی مرکز پر اتوار کی شب جھگڑے اور فائرنگ کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے ایم کیوایم کے عہدیداروں اور کارکنان کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔