سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں لائٹ ہاؤس پر منہدم کی گئی دکانوں کے متبادل پلاٹ سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے میونسپل کمشنر افضل زیدی کو تین ہفتوں میں متبادل پلاٹ کی حیثیت کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزار کے وکیل عذرا حمیدی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ لائٹ ہاؤس کے متاثرین کو کے ایم سی نے لی مارکیٹ میں متبادل پلاٹ دیا تھا، تاہم ٹرانسپورٹرز نے اسے بس اڈے کی جگہ قرار دے دیا۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے پہلے میونسپل کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ فریقین کا مؤقف سن کر فیصلہ کریں کہ پلاٹ رفاہی مقاصد کے لیے مختص ہے یا کمرشل، لیکن دکانداروں کے رابطہ کرنے کے باوجود میونسپل کمشنر یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ میونسپل کمشنر کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے اور متبادل جگہ متاثرین کے حوالے کی جائے۔
کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس عدالتی فیصلے اور درخواست کی نقل موجود نہیں۔ اس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے، "آپ کا کیا کیا جا سکتا ہے، یہاں فیصلہ بھی ہو چکا اور آپ ابھی تک کاپی تلاش کر رہے ہیں۔"
ٹرانسپورٹرز کے مطابق کے ایم سی کی جانب سے الاٹ کی گئی جگہ ٹھٹھہ جانے والی بسوں کے اڈے اور مفادِ عامہ کے لیے مختص ہے۔ عدالت نے میونسپل کمشنر کو ہدایت کی کہ تین ہفتوں میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے متبادل پلاٹ کی حیثیت سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔