رنگ گورا کرنے والی کریمیں خوبصورتی نہیں، سنگین جلد کے مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں

پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال عام ہے


ویب ڈیسک August 05, 2026
رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ دیکھی گئی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جلد کو زیادہ گورا اور نکھرا ہوا دکھانے کی خواہش میں بہت سے افراد مختلف وائٹننگ کریمیں اور بلیچ استعمال کرتے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ مصنوعات وقتی طور پر رنگت میں فرق تو لا سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں جلد کو شدید نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔

پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال عام ہے، جہاں اکثر لوگ ماہرِ امراضِ جلد سے مشورہ کیے بغیر ان مصنوعات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب متعدد کریموں میں ایسے کیمیکلز اور اسٹیرائیڈز شامل ہوتے ہیں جو جلد کو وقتی طور پر ہلکا دکھاتے ہیں، تاہم بعد ازاں یہی اجزا مختلف جلدی بیماریوں اور مستقل نشانات کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ان کریموں کا مسلسل استعمال کرنے والے بہت سے افراد کو چہرے پر مہاسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مصنوعات میں موجود کارٹیکوسٹیرائیڈز جلد کو وقتی طور پر صاف اور روشن تو بناتے ہیں، مگر ساتھ ہی دانوں کی افزائش کا باعث بھی بنتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مہاسے مستقل دھبوں اور نشانات میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جبکہ یہ مسئلہ مردوں اور خواتین دونوں میں یکساں طور پر دیکھا گیا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائیڈروکوئنون پر مشتمل کریموں کا طویل عرصے تک استعمال ایک ایسی جلدی کیفیت پیدا کر سکتا ہے جسے ایگزو جینس اوکرونوسس کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں جلد کے بعض حصوں پر نیلے یا سیاہ رنگ کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، جو خاص طور پر حساس جلد رکھنے والے افراد میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں اور بعد میں میک اپ سے بھی آسانی سے نہیں چھپتے۔

ماہرین کے مطابق جلد گوری کرنے والی مصنوعات کا ایک اور ممکنہ نقصان ڈرماٹائٹس ہے، جو جلد کی سوزش اور الرجی کی ایک عام بیماری ہے۔ اس کیفیت میں جلد سرخ ہو سکتی ہے، خارش شروع ہو جاتی ہے، چھالے یا دانے نکل سکتے ہیں، جلد خشک اور سوجی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں جلد پر زخم بھی بن سکتے ہیں۔

ماہرینِ امراضِ جلد کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ایسی کریمیں استعمال کرنے کے دوران سرخی، خارش، دانے، سوجن یا جلد پر غیر معمولی دھبے نظر آئیں تو فوراً ان کا استعمال بند کر دینا چاہیے اور جلد کے مستند ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خوبصورتی کے لیے ایسی مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے جلد کی قدرتی حفاظت اور مناسب طبی مشورے کو ترجیح دینا زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔