زچگی کی چھٹیوں کے دوران ملازمہ کو برطرف کرنے والے نجی ادارے پر 5 لاکھ جرمانہ، بحال کرنے کا حکم

فوسپاہ کے فیصلے کے مطابق خاتون کو زچگی کے دوران چھٹیوں کی منظوری کے باوجود دفتر آنے کا کہا گیا اور پھر نکال دیا گیا


ویب ڈیسک August 04, 2026

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) نے زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرفی کے عمل کو ہراسگی قرار دیتے ہوئے ادارے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق فوسپا نے خاتون کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرنے کے بعد فیصلہ جاری کیا جس میں زچگی کے دوران خاتون ملازمہ کو نوکری سے برخاست کرنے پر نجی ادارے کو 5 لاکھ روپے جرمانے اور ملازمہ کو بحال کرنے کا حکم دیا۔

فوسپاہ نے فیصلے میں لکھا کہ خاتون کی 13 نومبر 2025 سے 13 مئی 2026 تک چھ ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی منظور کی گئی پھر چھٹی کے دوران انتظامیہ نے خاتون کو مقررہ مدت سے قبل واپس ڈیوٹی پر آنے کا حکم دیا۔

فوسپاہ کے مطابق شکایت کنندہ نے وضاحت کی کہ سی سیکشن آپریشن سے صحتیابی، نومولود بچے کی کم عمری، اور بچے کی نگہداشت کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث وہ قبل از وقت واپسی سے قاصر ہیں۔ زچگی کی چھٹی پر ہونے کے باوجود، بغیر کسی تادیبی کارروائی، وارننگ یا شوکاز نوٹس کے خاتون کے آفیشل ای میل اکاؤنٹ تک رسائی منسوخ کر دی گئی۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب شکایت کنندہ قانونی طور پر منظور شدہ زچگی کی چھٹی پر تھیں جبکہ ملازمہ کو چھٹی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔

وفاقی ادارے برائے ہراسانی نے فیصلے میں لکھا کہ زچگی کی بنیاد پر امتیازی سلوک صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ فوسپاہ نے ہدایت کی کہ شکایت کنندہ کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پر پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے۔

اس کے علاوہ ادارے کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملازمہ کو برطرف کر کے  پندرہ دنوں کے اندر دستاویزی شواہد کے ساتھ تعمیل رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرائے۔