پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ، ہدایت کارہ اور پروڈیوسر شمیم آرا کی دسویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
اپنی خوبصورتی، باوقار شخصیت اور شاندار اداکاری کے باعث وہ کئی دہائیوں تک پاکستانی سنیما پر چھائی رہیں اور فلمی دنیا کو متعدد یادگار کردار اور کامیاب فلمیں دیں۔
1938 میں بھارتی شہر علی گڑھ میں پیدا ہونے والی شمیم آرا کا اصل نام پتلی بائی تھا۔ انہوں نے 1956 میں فلم ’کنواری بیوہ‘ کے ذریعے فلمی سفر کا آغاز کیا، تاہم 1960 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سہیلی‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اس فلم میں عمدہ اداکاری پر انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
شمیم آرا نے اپنے طویل فلمی کیریئر میں 80 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’نائلہ‘ سمیت دیوداس، صاعقہ، لاکھوں میں ایک، انارکلی، قیدی، فرنگی، دوراہا اور چنگاری جیسی کئی کامیاب فلموں کا حصہ رہیں۔ ان کی جوڑی وحید مراد، محمد علی، سنتوش کمار، درپن اور ندیم جیسے نامور اداکاروں کے ساتھ بے حد پسند کی گئی۔
اداکاری کے میدان میں کامیابی کے بعد شمیم آرا نے ہدایت کاری اور فلم سازی کا رخ کیا اور پاکستان کی پہلی کامیاب خاتون فلم ڈائریکٹر کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے ’پلے بوائے‘، ’مس ہانگ کانگ‘ اور ’مس کولمبو‘ سمیت متعدد فلموں کی ہدایت کاری کی، جبکہ کئی نئے فنکاروں کو فلمی دنیا میں متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
ان کی شاندار فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں اداکاری پر چھ جبکہ ہدایت کاری پر تین نگار ایوارڈز سے نوازا گیا، جو ان کے کامیاب کیریئر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
شمیم آرا طویل علالت کے بعد 5 اگست 2016 کو لندن میں 78 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں، تاہم ان کی فلمیں، یادگار کردار اور پاکستانی سنیما کے لیے خدمات آج بھی انہیں فلمی دنیا کی ایک لازوال شخصیت کے طور پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔