امریکا اور ایران کے درمیان پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی دفاعی معاملات سے واقف تین باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج کے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل کے ذخائر تقریباً تمام ہوچکے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ امریکا کے پاس ان میزائلوں کی کتنی تعداد باقی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسلسل استعمال کے باعث ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
یہ دونوں میزائل امریکی فوج کے اہم زمینی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں جو دور سے انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پریسیژن کو نئی نسل کا میزائل تصور کیا جاتا ہے جو مستقبل میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کی جگہ لے گا۔
دفاعی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ یہی میزائل کسی بھی ممکنہ جنگ خاص طور پر چین اور روس جیسے مضبوط فضائی دفاعی نظام رکھنے والے ممالک کے خلاف انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف حملہ آور میزائل ہی نہیں بلکہ دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکا نے اپنے 65 فیصد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کر لیے۔
اسی طرح تھاڈ نظام کے بیلسٹک میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں بھی کم از کم 38 فیصد کمی آ چکی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ اعداد و شمار امریکی حکومت کے اندرونی ریکارڈ سے مطابقت رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی بحریہ نے اپنے عالمی ذخیرے میں موجود ٹوماہاک کروز میزائلوں کا تقریباً نصف حصہ استعمال کر لیا ہے۔
یہ میزائل عموماً جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے فائر کیے جاتے ہیں اور بغیر پائلٹ کو خطرے میں ڈالے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
رائٹرز کے بقول گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو کیا امریکا اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو خطرناک حد تک کم کیے بغیر کارروائیاں جاری رکھ سکے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی حکام کئی ہفتوں سے صدر ٹرمپ کو خبردار کر رہے تھے کہ اگر جنگ اسی رفتار سے جاری رہی تو نہ صرف حملہ آور بلکہ دفاعی میزائلوں کے ذخائر بھی متاثر ہوں گے بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار ہیں
رائٹرز کی اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں بلکہ ہماری ضرورت سے بھی زیادہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی کمپنیاں اس وقت تاریخ میں سب سے زیادہ رفتار سے اسلحہ تیار کر رہی ہیں جبکہ نئی فیکٹریوں اور پیداواری صلاحیت میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کی وضاحت
ترجمان پینٹاگون شان پارنیل نے بھی میزائلوں کی کمی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے احکامات پر کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔