بھارت میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران جہاں نوجوانوں نے منفرد انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، وہیں ایک 60 سال پرانا گانا بھی جین زی کی آواز بن کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں نوجوانوں نے مختلف فلمی گانوں پر پرفارم کیا، جبکہ کچھ شرکا نے اسپائیڈر مین، بیٹ مین اور ہلک سمیت مشہور سپر ہیروز کا روپ دھار کر بھی احتجاج کیا۔
اسی دوران کشور کمار کے معروف گانے ’میرے محبوب قیامت ہو گی‘ کے ایک ریمکس نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔
2019 میں وائرل ہونے کی شروعات
اس گانے کا یہی حصہ 2019 میں سوشل میڈیا پر پہلی بار مقبول ہوا تھا جب انفلوئنسر فیصل شیخ اور حسنین خان نے اسے اپنی ویڈیوز میں استعمال کیا۔
بعدازاں اس گانے پر مخصوص انداز میں سر ہلانے کا ٹرینڈ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر پھیل گیا اور متعدد صارفین نے اس کی نقل میں ویڈیوز بنائیں۔
تاہم موجودہ وائرل ورژن کشور کمار کی اصل ریکارڈنگ نہیں بلکہ گلوکار ابھے جین کی آواز میں پیش کیا گیا ورژن ہے، جسے بعد میں ڈی جے لکشمن راوت اجمیر، ڈی جے راجو اور ڈی جے گِردھاری نے ریمکس کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس ریمکس کو یوٹیوب پر 10 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
19 سالہ نوجوان نے ٹرینڈ کو مزید مقبول کر دیا
19 سالہ انسٹاگرام کریئیٹر ابھینوِشٹ نے احتجاج کے دوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس گانے پر مخصوص انداز میں سر ہلاتے ہوئے ڈانس کیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس کے بعد احتجاج کے مختلف دنوں میں بھی نوجوانوں نے اسی گانے پر ویڈیوز بنائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹرینڈ اتنا مقبول ہوا کہ فلم ’کھوسلا کا گھوسلا 2‘ کی کاسٹ انوپم کھیر، بومن ایرانی، پروین ڈاباس اور رنویر شوری بھی اس انداز کو آزمانے سے پیچھے نہ رہے۔
یہ گانا اصل میں کس کا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گانے پر آج کی جین زی احتجاجی ویڈیوز بنا رہی ہے، اس کی اصل دھن چھ دہائیاں پرانی ہے۔
’آج رسوا تیری گلیوں میں محبت ہو گی‘ دراصل 1964 میں ریلیز ہونے والی فلم ’مسٹر ایکس اِن بمبئی‘ کے گانے ’میرے محبوب قیامت ہو گی‘ کا حصہ ہے۔
گانے کی موسیقی لکشمی کانت پیارے لال نے ترتیب دی تھی، جبکہ کشور کمار نے اسے اپنی آواز دی۔ گانے کے بول آنند بخشی اور اسد بھوپالی نے لکھے تھے۔
فلم میں کشور کمار ایک شاعر کا کردار ادا کرتے ہیں جو محبت میں ناکامی کے بعد انتہائی مایوس ہو جاتا ہے۔ گانے میں موجود اداسی اور جذباتی کیفیت نے اسے کئی دہائیوں تک مقبول رکھا۔