لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور لڑکی سے اے ایس آئی کے زیادتی کرنے کے معاملے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ملزم گھر والوں کو پیسوں کی آفر بھی کرواتا رہا، تھانہ میں موجود پیٹی بھائی اس کے ساتھ گھر والوں پر دباؤ ڈالتے رہے۔
ذرائع نے کہا کہ ملزم اے ایس آئی عمران نے تھانے کے کمرے میں لے جا کر پہلے دودھ پلایا اور پکوڑے کھلائے، اس کے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ملزم زیادتی کے بعد جب خود واپس چھوڑنے جارہا تھا تو اس وقت بھی سنتری نے دوبارہ پوچھا عمران صاحب تفتیش ہو گئی ہے؟ جس پر اے ایس آئی نے بتایا کہ دو تین سوال پوچھنے تھے، اس نے بتا دیے ہیں۔
اس کے بعد ملزم اے ایس آئی لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ آیا، ملزم کی اسپیشل رپورٹ بنانے کے بعد ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی سید ذیشان رضا نے واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
ناقص سپرویزن پر انچارج انویسٹی گیشن تھانہ غازی آباد کو بھی معطل کلوز انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹر کے احکامات جاری کر دئیے گئے، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش کی جائے۔
تفتیشی ذرائع نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔