آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا

’فینٹم ٹوئسٹ‘ نامی یہ ڈرون ایک سیکنڈ میں 25 مرتبہ تک گھوم سکتا ہے


ویب ڈیسک August 06, 2026

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینئرز نے انسانی بصارت کی حد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا ڈرون تیار کیا ہے جو پرواز کے دوران انسانی آنکھ کو تقریباً غائب دکھائی دیتا ہے۔

محققین کے مطابق ماضی میں غیر مرئی ڈرون بنانے کے لیے کیموفلاج، شفاف مواد اور روشنی کو موڑنے والی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا رہا۔ تاہم، اس نئی تحقیق میں ’موشن بلر‘ کے تصور کو استعمال کیا گیا ہے، وہی بصری اثر جس کی وجہ سے تیزی سے گھومنے والے پنکھے یا پروپیلر دھندلے نظر آتے ہیں۔

’فینٹم ٹوئسٹ‘ نامی یہ ڈرون ایک سیکنڈ میں 25 مرتبہ تک گھوم سکتا ہے، جو انسانی آنکھ کے لیے اتنی تیز رفتار ہے کہ ڈرون واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ اگرچہ یہ مکمل طور پر غیر مرئی نہیں ہوتا لیکن ایک دھندلے سایے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو پس منظر میں گھل مل جاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو جنگلی حیات کی نگرانی، ماحولیاتی سروے اور بنیادی ڈھانچے کے معائنے جیسے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں کم بصری مداخلت ضروری ہو۔

یہ تحقیق 16 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقدہ روبوٹکس: سائنس اینڈ سسٹمز 2026 کانفرنس میں پیش کی گئی۔

تحقیق کا عنوان Computational Design of a Low-Visibility UAV Using Human-Aligned Perceptual Metric تھا جو ’روبوٹ اینڈ سینسر ڈیزائن‘ سیشن کا حصہ تھی۔

تحقیق کے سربراہ مائیکل روبن اسٹین نے کہا کہ زیادہ تر کوششیں ڈرون کو ماحول سے ہم آہنگ بنا کر چھپانے پر مرکوز رہی ہیں لیکن سائنس دانوں نے ڈرون کو انسانی بصارت کے مطابق ڈیزائن کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلسل حرکت کے ذریعے اس کی نمایاں موجودگی کم ہو سکے۔