کینیڈا، پاکستانی ہائی کمیشن، قونصل خانوں کے زیر اہتمام بھارتی اقدامات کے خلاف یوم استحصال منایا گیا

کشمیر میں غیر قانونی اقدامات کے سات سال بعد بھی امن، استحکام اور ترقی کے وعدے پورے نہیں ہوئے، ہائی کمشنر



کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمیشن اور اس کے قونصل خا نوں نے یوم استحصال منایا، اوٹاوامیں پاکستان کے ہائی کمیشن نے مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں پاکستان کے قونصل جنرلز کے ساتھ مل کر آج یوم استحصال منایا جو 5 اگست 2019 کے ہندوستان کے اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر منایا گیا۔

سات سال قبل  5 اگست کو بھارت نے غیر قانونی طور پر اپنے زیرتسلط  (مقبوضہ جموں و کشمیر)  کی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیا۔

ساتویں یوم  استحصال کی یاددہانی کی تقریب کینیڈا میں پا کستانی ہائی کمیشن میں بھی منعقد ہوئی جس کا مقصدبھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے)  کی عوام کے ساتھ پاکستان کی ثابت قدم یک جہتی کا اظہارکرنا تھا۔

اس موقع پر صدر پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ تقریب کے شرکاء کوبھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر  میں انسانی حقوق کی پامالی کی صورتحال کو اجاگر کرنے والی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔

موقع کی مناسبت سے مقبوضہ کشمیرکے عوام پر تنازعہ کے اثرات کو بیان کرنے والی تصویری نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن، ماہرین تعلیم، کمیونٹی کے نمائندوں اور کشمیر کے دوستوں نے شرکت کی۔

کینیڈا میں ہائی کمشنر محمد سلیم نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ 5  اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے سات سال بعد بھی امن، استحکام اور ترقی کے وعدے پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیاں، طویل نظربندیاں، آبادیاتی جغرافیائی تبدیلیاں اور آ ٓئی آئی او جے کے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں عالمی برادری کے ساتھ سنگین خدشات کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔

ہائی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حل طلب تنازعہ ہے جس کا پرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔