سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ ’بہت مشکل‘ ہے، صدر پزشکیان کا بڑا انکشاف

پزشکیان کے مطابق ایران نے مشکل حالات میں بھی قومی یکجہتی برقرار رکھی اور ملکی اداروں نے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں


ویب ڈیسک August 06, 2026

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہے، سپریم لیڈر کی موجودگی ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ہے اور ایران اپنے قومی راستے پر ثابت قدم رہے گا۔

ایرانی صدارتی دفتر کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے موجودہ داخلی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سپریم لیڈر سے براہِ راست رابطہ اس وقت آسان نہیں، لیکن ان کی قیادت اور موجودگی ایران کے لیے انتہائی اہم ہے۔

صدر پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو اس امید پر نشانہ بنایا کہ ایران کی ریاستی ساخت کمزور ہو جائے گی اور ملک بحران کا شکار ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مخالفین کا یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا اور ملک نے اس صورتحال کے باوجود اپنے ریاستی نظام اور اداروں کو برقرار رکھا۔

پزشکیان کے مطابق ایران نے مشکل حالات میں بھی قومی یکجہتی برقرار رکھی اور ملکی اداروں نے اپنی ذمہ داریاں انجام دینا جاری رکھیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے داخلی اتحاد، مضبوط ادارے اور قومی استحکام سب سے زیادہ اہم ہیں، تاکہ بیرونی دباؤ اور سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سفارتی سرگرمیوں اور سکیورٹی معاملات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے صدر پزشکیان کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔