صدرِ مملکت کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
صدرِ مملکت کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ درخواست ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کے ذریعے دائر کی۔
دورانِ سماعت وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ججز کی تعیناتی کی سمری منظوری کے لیے صدرِ پاکستان کو بھجوائی گئی ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ حکومت ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے جا رہی ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ عدالت سمری کی تفصیلات طلب کرے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ استدعا درخواست میں کی گئی ہے، جس پر وکیل زاہد آصف نے بتایا کہ یہ استدعا درخواست کا حصہ ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ وہ کون سا فیصلہ ہے جس میں صدر کو ہدایات جاری کی گئی ہوں، اور یہ بھی پوچھا کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی کون سی ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ ایک فیصلے میں پارلیمانی کمیٹی کو ہدایات جاری کی گئی تھیں، جبکہ ججز کی نامزدگی وزیراعظم کے ذریعے صدر کو تعیناتی کے لیے بھیجی جاتی ہے۔
عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا صدرِ پاکستان کے خلاف ایسی آئینی درخواست قابلِ سماعت ہو سکتی ہے۔ وکیل زاہد آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کی منظوری کے بعد عمومی طور پر وزارتِ قانون نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، تاہم صدر کی منظوری کے بغیر بھی وزارتِ قانون نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جس فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس میں ایسی صورتحال موجود نہیں تھی، اور وکیل سے کہا کہ وہ ایسا فیصلہ بتائیں جس میں صدر کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہو۔
وکیل زاہد آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں صدر کا عہدہ علامتی ہے اور صدر کے پاس منظوری کے علاوہ کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ چونکہ 15 دن گزر چکے ہیں، اگر صدر منظوری نہیں دیتے تو متعلقہ اتھارٹی کو نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔
عدالت نے دوبارہ استفسار کیا کہ مجاز اتھارٹی کون سی ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ وزارتِ قانون نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔ وکیل نے وفاق، وزیراعظم آفس اور وزارتِ قانون سے جواب طلب کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھا جائے کہ سمری کا اسٹیٹس کیا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صدر کے خلاف رِٹ جاری کی جا سکتی ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ پہلے حکومت سے سمری کی موجودہ صورتحال معلوم کر لی جائے۔ وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اطلاعات ہیں حکومت ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 48 گھنٹوں میں جاری کر رہی ہے۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔