بھارت میں شیخ حسینہ کی میڈیا گفتگو پر بنگلادیش کا شدید احتجاج، خودمختاری پر حملہ قرار

یہ ردعمل اس وقت آیا جب فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی میزبانی میں شیخ حسینہ کی ایک میڈیا نشست منعقد ہوئی


ویب ڈیسک August 06, 2026

ڈھاکا: بنگلادیش نے بھارت میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو میڈیا سے گفتگو کی اجازت دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔

بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ حکومت اس بات پر شدید برہم ہے کہ مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا سے خطاب کرنے کی اجازت دی گئی، حالانکہ اس حوالے سے پہلے ہی بھارتی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی میزبانی میں نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی ایک میڈیا نشست منعقد ہوئی۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ شیخ حسینہ نے اپنی گفتگو کے دوران بنگلادیش، اس کے عوام اور ریاستی اداروں کے خلاف زہریلے ریمارکس دیے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ تقریب جولائی انقلاب کی دوسری برسی کے موقع پر منعقد کی گئی جبکہ بھارتی سرزمین پر شیخ حسینہ کی موجودگی اور میڈیا سے خطاب ان افراد کی توہین ہے جو حکومت مخالف تحریک کے دوران جان سے گئے تھے۔

بنگلادیشی حکومت نے جولائی اور اگست 2024 کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن سے متعلق شیخ حسینہ کے مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوے اقوام متحدہ کی تحقیقات اور سامنے آنے والے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ بنگلادیش کے عوام نے ماضی کے سیاسی نظام کو مسترد کر دیا ہے اور ملک دوبارہ ایسے سیاسی دور کی طرف واپس نہیں جائے گا۔

بیان میں بھارت پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان 2013 کے حوالگی معاہدے کے باوجود شیخ حسینہ کو بنگلادیش واپس بھیجنے کی درخواستوں پر کوئی مؤثر جواب نہیں دیا۔

بنگلادیش نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ باہمی احترام، مساوات، عدم مداخلت اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی مثبت تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم ایسے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت چلی گئی تھیں۔ بعد ازاں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں سزا سنائی گئی، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق 2024 کی عوامی تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔