جنوبی کوریا میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دو ہزار سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک اور دیگر گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر ریکارڈ توڑ گرمی دیکھی گئی ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے تمام سرکاری اداروں کو عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بزرگ افراد، کھلے میدانوں میں کام کرنے والے مزدور اور کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ بعض صوبوں میں ڈرونز کے ذریعے کسانوں کو گرمی سے بچاؤ کی ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی اور دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کریں۔
واضح رہے کہ ہیٹ اسٹروک کی علامات میں چکر آنا، شدید کمزوری، جسم کا بہت گرم ہونا یا بے ہوشی ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔