پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میانخیل نے افغان جرنیلوں کی پاکستان میں عارضی قیام کے لیے دائر درخواستوں پر تحریری فیصلے جاری کردیے۔
عدالت نے دونوں افغان جرنیلوں کی پاکستان میں عارضی قیام کی درخواستیں خارج کردی، درخواست گزارعبدالمجیب غیرت سابق سپیشل ایجنٹ افغانستان پریزیڈنٹ پروٹیکٹو سروس ہے، درخواست گزاربریالی شریفی سابق افغان نیشنل آرمی (ملی اردو) میں جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔
فیصلے کے مطابق دونوں درخواست گزاروں کے مطابق انہیں افغانستان میں شدید خطرہ ہے ، درخواست گزاروں نے افغان پاسپورٹس اور دیگر دستاویزات کے بنیاد پر ہنگامی طبی علاج کی استدعا بھی کی تھی ، درخواست گزار عبد المجیب غیرت لے مطابق انہوں نے ویزوں کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست دے رکھی ہے، دونوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت تحفظ، ہراسانی اور گرفتاری سے روکنے کی بھی استدعا کی تھی۔
اس میں کہا گیا کہ ویزوں کی تجدید یا توسیع، اور ان کی امیگریشن کی حیثیت سے متعلق سوالات متعلقہ مجاز ایگزیکٹو اتھارٹیز کے خصوصی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جب تک کوئی غیر قانونی عمل، کسی قانونی درخواست سے انکار، یا کسی تسلیم شدہ قانونی حق کی پامالی نہ ہو، عدالت فریقین کو تحفظ دینے یا کوئی قانونی حیثیت دینے کا حکم جاری نہیں کر سکتی، آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت مداخلت کا کوئی کیس نہیں بنتا، لہٰذا اس بنیاد پر درخواستوں کو خارج کیا جاتا ہے۔