میر رضا کے جسم پر متعدد تشدد کے نشانات پائے گئے، چوٹیں موت سے پہلے کی ہیں، میڈیکل رپورٹ میں انکشاف

میڈیکل ٹیم نے 17 نمونے حاصل کیے، بورڈ کے تمام 8 ممبران کے دستخط سے جاری کردہ رپورٹ اہل خانہ کو بھی دے دی گئی


فوٹو: فائل

کراچی میں اغوا کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کیے جانے والے نوجوان میر رضا علی کی قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متعدد زخموں اور چوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

میڈیکل بورڈ کے تمام 8 ارکان کے دستخط سے جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سر، چہرے، گردن، سینے اور جسم کے مختلف حصوں پر متعدد چوٹوں کے شواہد ملنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جسم پر فائر آرم انجریز کے شواہد موجود ہیں جبکہ رپورٹ میں دائیں جانب اوپری کمر پر فائر آرم کا انٹری واؤنڈ موجود ہونے کا ذکر ہے۔

رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کی وجہ سے چھٹی پسلی میں فریکچر اور اندرونی خون بہنے کے شواہد ملے جبکہ سینے کے بائیں جانب سے گولی نکلنے کا زخم بھی موجود تھا۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق گولی کی وجہ سے ہونے والے زخم سے متعلق نمونے مزید فرانزک و کیمیائی تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق بعض زخموں کے نیچے موجود ٹشوز میں خون جمع ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق میر رضا علی کو موت سے قبل چوٹیں لگیں جبکہ پوسٹ مارٹم کے دوران خون، ٹشوز، جلد، بال، دانت اور دیگر نمونے محفوظ کیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ اہل خانہ اور متعلقہ حکام کو ارسال کردی ہے۔

اس سے قبل محکمہ صحت سندھ کی جانب سے تشکیل دیے گئے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی میں قبر کشائی کا عمل مکمل کیا اور لاش کے 17 ضروری سپیملز حاصل کیے،

ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیمیکل ایگزامینیشن اور ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کیے، جنہیں محفوظ کرنے کے بعد میر رضا کی تدفین کی گئی اور قبر کشائی کا عمل مکمل ہوگیا۔

میڈیکل بورڈ کے ارکان نے نمونے لینے کے بعد لیبارٹری فارنزک کے لیے بھیجا جائے گا، میر رضا کے والدین و بہہن کا ڈی این اے سیمپل بھی لیا۔

فرانزک آئیڈنٹیفکیشن ایکسپرٹ عامر حسن کی ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو

اس سے قبل فرانزک آئیڈنٹیفکیشن ایکسپرٹ عامر حسن نے کہا تھا کہ تمام ضروری سیمپلز حاصل کرلیے گئے ہیں، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جو چیزیں رہ گئی تھیں، انہی کو سامنے رکھتے ہوئے تمام نمونے حاصل کیے گئے ہیں، کوشش پوری کی ہے تمام سوالوں کے جوابات مل سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ باڈی کی صورتحال کافی بہتر تھی، سیمپلز حاصل کرنے میں کوئی دشواری کا سامنا نہیں ہوا، ہمیں بالکل کلیئر سیمپلز مل گئے ہیں جو لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھیجے ہیں، شناخت کے لیے والدین کے بھی ڈی این اے لیے گئے ہیں، سیمپلز کا نتیجہ آنے کے بعد پتہ لگے گا یہ میر رضا کی بوڈی ہے بھی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سیمپلز کے نتیجہ نہیں آجاتا مزید کچھ کہنا بہتر نہیں، سیمپلز کی رپورٹ ہی بتائے گی کیا شواہد ملے ہیں۔

وکیل جبران ناصر کی گفتگو

جبران ناصر کے مطابق صبح 11 بج کر 7 منٹ پر قبر کشائی کا آغاز، بعد ازاں پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ مرحوم کی میت سے مطلوبہ شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، پولیس سرجن کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میڈیکل بورڈ کو مل چکے ہیں۔

ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان، حتمی رپورٹ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد مرتب ہوگی۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد خودکشی یا قتل سے متعلق اہم سوالات واضح ہو جائیں گے۔ رپورٹ سے معلوم ہوگا کہ زخم خود لگائے گئے یا کسی اور نے تشدد کیا۔

اگر قتل ثابت ہوا تو رپورٹ سے تشدد کی نوعیت اور ممکنہ ملزمان کی تعداد کا بھی اندازہ ہوگا۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ حقائق سامنے آنے کے بعد افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

جبران ناصر نے کہا کہ آج کے بورڈ اور کارروائی سے ہم مطمئن ہیں، شام چھ بجے تک رپورٹس ممکنہ طور پر آجائیں گی۔ رپورٹ سے واضح ہوگا کہ خودکشی ہے یا قتل، پولیس کی نااہلی پر عدالت نے نوٹس لیا ہے۔ عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ معاملہ اٹھا۔