امریکہ بھارت قربتیں: فاصلوں میں بدلنے لگیں

واشنگٹن کے ساتھ گہرے تعلقات کے ذریعے معاشی اور تزویراتی اہداف حاصل کرنے کا بھارت خواب چکنا چور ہوگیا


سید عاصم محمود August 10, 2026

’’ہر دوستی کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد چھپا ہوتا ہے۔ کوئی دوستی ذاتی مفادات کے بغیر نہیں ہوتی، یہ ایک تلخ سچائی ہے۔‘‘(قدیم بھارتی مدبر،چانکیہ)

٭٭

ایک طاقت ور ملک کی مجموعی حکمت عملی اکثر کھلے بیان سے بہت پہلے خاموش پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے شکل اختیار کرتی ہیں۔ اِس وقت بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی کے ساتھ یہی ہو رہا ہے، جسے خاموشی سے لیکن بنیادی طور پر دوبارہ لکھا جا رہا ہے۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک ابھرتے جمہوری بھارت کو واشنگٹن کی جانب سے ایک مثبت پہلو کے طور پر دیکھا گیا… توسیع پسند چین کا معاشی و عسکری توازن۔ امریکی انتظامیہ نے مسلسل بھارت سے گہرے تعلقات استوار کیے جس نے اس تعلق کو امریکہ کی دونوں جماعتوں کے اتحاد کا ایک نادر ستون بنا دیا۔مگر امریکی بھارتی شراکت داری کی اسٹریٹجک رومانیت اب ختم ہو چکی اور واشنگٹن نے بھارت سے متعلق اپنا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کی نمایاں خصوصیات میں جابرانہ سفارت کاری، پاکستان کی طرف امریکی ’’جھکاؤ‘‘ کی بحالی اور بیجنگ کے ساتھ ساختاتی ہم آہنگی شامل ہیں۔ امریکی حکمت عملی میں بھارت کا کردار سکڑنا شروع ہو گیا ہے۔

واشنگٹن میں اب بھارت ایسا اسٹریٹجک شراکت دار نہیں رہا جس کی افزائش کی جائے بلکہ ایک ایسے ممکنہ معاشی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا عروج روکنا ضروری ہے کہ کہیں یہ طویل المدتی امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن جائے۔ یہ صورتحال صرف معاشی مسائل تک محدود نہیں ۔ بھارت کے قریبی پڑوس میں امریکی پالیسی اب بھارت کے علاقائی مفادات کے خلاف کام کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتی۔

اس صدی میں نئی دہلی نے واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اِس اُمید پر کہ گہرے تعلقات بھارت کے معاشی اور اسٹریٹجک عروج میں مددگار ہوں گے۔بھارت اب بھی اس تعلق کو اپنے طویل المدتی مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ یہ امریکہ کے ساتھ اہم جیو پولیٹیکل مفادات کا اشتراک کرتا ہے،دہشت گردی کے خاتمے سے لے کر چین کا عروج سنبھالنے اور انڈو-پسیفک خطّے میں استحکام برقرار رکھنے تک، ایک ایسا خطّہ جو پہلے ہی قوتِ خرید کی بنیاد پر دنیا کی تقریباً نصف اور برائے نام (نومل) بنیادوں پر ایک تہائی سے زیادہ جی ڈی پی پیدا کرتا ہے۔

بدلے میں واشنگٹن نے بھی طویل عرصہ بھارت کی اہمیت تسلیم کی: اُس کا حجم، اہم سمندری اور توانائی کے راستوں کے قریب جغرافیہ، عسکری رسائی اور خلائی و سائنسی امور میں کامیابی اُسے ایشیا میں طاقت کے کسی بھی مستحکم توازن کے لیے مرکزی حیثیت دیتی ہیں۔ ایسے وقت جب دیگر اہم معیشتیں سست روی کا شکار ہیں، بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی مارکیٹ بنا ہوا ہے،امریکی برآمد کنندگان کے لیے ایک مقناطیس۔

بل کلنٹن سے شروع کرتے ہوئے سبھی امریکی صدور نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے جس سے امریکی خارجہ پالیسی کے چند قابلِ اعتماد یکساں نکتہ ہائے نظر میں سے ایک سامنے آیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران تعلقات عروج پر پہنچے جس میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات نے مدد کی۔شخصیت کی باہمی ہم آہنگی سے زیادہ اہم اُس کا جوہر (سبسٹینس) تھا: ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے اپنی انڈو-پسیفک حکمت عملی میں بھارت کو نمایاں مقام دیا، چین کو اسٹریٹجک حریف قرار دے کر 45 سالہ امریکی پالیسی الٹ دی، اور دہشت گردی سے تعلق کا بہانہ بنا اس کی سیکیورٹی امداد بند کر دی۔

جنوری 2025 ء میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے توقع تھی کہ وہ اسی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔ اس کے برعکس، تعلقات تیزی سے خراب ہوئے جیسا کہ سبھی مبصرین تسلیم کرتے ہیں۔یو ایس کانگریس کے ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے ’’صدر ٹرمپ نے مئی 2025ء سے ایسے اقدامات کیے جنھوں نے بھارت کے ساتھ شراکت داری کو خطرے میں ڈال دیا۔‘‘ عجیب بات یہ کہ یہ تبدیلی چین کے لیے ٹرمپ کے زیادہ نرم رویّے اور پاکستان کو گلے لگانے کے ساتھ ساتھ ہوئی جو ان کی پہلی مدت کے موقف کا واضح الٹاؤ ہے۔

ٹرمپ کی عوام کے سامنے بھارتی حکومت کی تذلیل اور ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے بھارت کے ساتھ تعلقات پر پڑتے دباؤ کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی سے پہلے ہی یہ تعلقات دباؤ کا شکار تھے۔پہلی دراڑیں صدر جو بائیڈن کے دور میں سامنے آئیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کو اچانک نکالنے کے بائیڈن فیصلے ، یوں ملک کو پاکستان کے حمایت یافتہ طالبان کے حوالے کرنے اور اس کے بعد یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس کے خلاف امریکہ کی قیادت میں لڑائی نے دنیا کی سب سے طاقتور اور سب سے بڑی جمہوری معیشتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی۔

بھارت نے اسرائیل اور ترکی جیسے امریکی شراکت داروں کی طرح یوکرین جنگ پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا،جیسا کہ اس سے قبل عراق اور لیبیا پر امریکہ کی قیادت میں ہوئے حملوں کے دوران کیا تھا۔ اس کے باوجود واشنگٹن نے نئی دہلی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی: بائیڈن کے اعلیٰ معاشی مشیر برائن ڈیز نے خبردار کیا کہ بھارت کی غیر جانبداری کے ’’نتائج اور قیمت بوجھل اور طویل المدتی ہوگی۔‘‘

یوکرین تنازع میں بھارت کی غیر جانبداری تنازعات کی اُس سیریز کا صرف آغاز تھی جس نے دوطرفہ تعلقات کو متزلزل کر دیا۔ بھارت کو امریکی اسلحے کی زیادہ فروخت کے باوجود جیسے کہ 2024 ء میں 3.8 ارب ڈالر کا ڈرون معاہدہ، یہ واضح ہو گیا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان کبھی پھلنے پھولنے والی اسٹریٹجک شراکت داری اب کمزور ہو رہی ہے۔

دوطرفہ کشیدگی اُس وقت کھلے عام سامنے آئی جب بھارتی حکمران جماعت، بی جے پی نے علانیہ طور پر ’’امریکی ڈیپ اسٹیٹ‘‘ پر بھارت اور اس کے کاروباری اداروں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ’’جھوٹے بیانیے‘‘استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ بھارت میں 2024ء کے مہینوں پر محیط قومی انتخابی عمل کے دوران امریکہ کے کچھ بیانات جو بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے موقف کی عکاسی کرتے تھے، بی جے پی کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مشق میں ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیے گئے۔

بائیڈن نے تعلقات مضبوط بنانے میں مودی کے کردار کی تعریف کی لیکن انہوں اور دیگر نامور ڈیموکریٹس نے ہندو قوم پرستی سے وابستہ ان کی سیاست کے لیے اپنی ناپسندیدگی بمشکل ہی پوشیدہ رکھی۔وسط 2024 ء میں مودی کے دوبارہ انتخاب کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے آخری مہینے مزید کشیدگی لائے جس میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھارت دوست حکومت کے پُرتشدد تختہ الٹنے کی حمایت بھی شامل تھی۔اِسے بھارت میں بہت سے لوگوں نے امریکہ کی طرف سے اسپانسر شدہ انقلاب کے طور پر دیکھا۔ بقول بھارتی مبصرین کے،تب سے بنگلہ دیش کا اسلام پسندانہ جھکاؤ بھارت کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے، بالخصوص جب بھارت پہلے ہی لاکھوں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کی میزبانی کر رہا ہے۔

امریکہ کے دیگر اقدامات نے بھی بھارت کے علاقائی مفادات کے خلاف کام کیا۔ بقول بھارتیوں کے ،منتخب وزیراعظم عمران خان کی برطرفی کے بعد اس نے پاکستان کی عسکری حمایت یافتہ حکومت کو سہارا دیا۔پھر واشنگٹن نے پابندیوں اور باغیوں کو عسکری امداد کے ذریعے میانمار کی جنتا (عسکری حکومت) گرانے کی کوشش کی۔ باغیوں کی سرحد پار سے اسلحہ اسمگلنگ نے بھارت کی ریاست منی پور میں نسلی تنازع کو ہوا دی۔

امریکی عدالتوں کی دو چارج شیٹس (فردِ جرم) نے اِس بے اعتمادی کو مزید گہرا کر دیا۔ اکتوبر 2024 ء میں امریکہ نے گْرپتونت سنگھ پنوںکے مبینہ قتل کی ناکام سازش پر ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی۔پنوں نیویارک میں مقیم ایک خالصتانی عسکریت پسند اور بھارت میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت مطلوب ہے۔چند ہفتوں بعد پنوں نے ایئر انڈیا کے مسافروں کو کھلم کھلا خبردار کیا کہ ان کی جانیں خطرے میں ہیں جبکہ ساتھ ہی اس قومی ایئر لائن کو دنیا میں کہیں بھی پرواز نہ کرنے دینے کی دھمکی بھی دی۔

   پنوں کا معاملہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے سنسنی خیز الزام کے ایک سال بعد سامنے آیا۔وہ امریکہ کی شیئر کردہ غیر مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر لگایا گیا تھا کہ بھارتی حکام اور 2023 ء میں ایک اور خالصتانی عسکریت پسند، ہردیپ سنگھ نجر (جسے بھارت نے دہشت گرد قرار دیا تھا) کے قتل کے درمیان ’’ممکنہ تعلق‘‘" ہے۔واشنگٹن کی بدمزگی ستمبر 2024 ء میں اپنے عروج پر پہنچ گئی جب وائٹ ہاؤس نے بائیڈن کے آبائی شہر ولمنگٹن میں کواڈ (Quad) سربراہی اجلاس کے لیے مودی کی آمد سے چند گھنٹے قبل امریکہ میں مقیم خالصتانی علیحدگی پسندوں کی میزبانی کی اور انہیں بریفنگ دی جس سے اسٹریٹجک اعتماد کو نقصان پہنچا۔

پنوں چارج شیٹ کے چند ہفتوں بعد واشنگٹن نے ایشیا کے دوسرے سب سے امیر شخص اور ایڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم ایڈانی پر بھارت میں مبینہ رشوت ستانی کے مرکزی فراڈ کا الزام عائد کر دیا۔اسے نئی دہلی میں مودی پر بالواسطہ وار کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ اس سرمایہ کار کا ملک اور بیرونِ ملک بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے بھارت کے عالمی عروج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار تھا اور وزیراعظم کے ساتھ اس کے ذاتی تعلقات بھی تھے۔ایڈانی اور پنوں کے معاملات نے مل کر بھارت میں اس سوچ کو پختہ کر دیا کہ امریکی قانونی نظام بائیڈن کے دور کی خارجہ پالیسی کا ایک ہتھیار بن چکا۔

واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں ان کشیدگیوں نے نئی دہلی کو اسٹریٹجک تحفظ پر مجبور کر ڈالا۔ ان حالات نے اکتوبر 2024ء میں بیجنگ کے ساتھ ایک معاہدے کی تحریک میں بھی مدد کی تاکہ اپریل-مئی 2020 ء میں مشرقی لداخ میں چین کی خاموش علاقائی دست اندازی سے پیدا ہونے والا ہمالیائی تعطل کم کیا جا سکے۔ٹرمپ کی واپسی سے ان کی پہلی مدت کے سنہرے دنوں کی بحالی کی تمام توقعات جلد ہی دم توڑ گئیں۔ اس کے بجائے ٹرمپ نے خود دوطرفہ تعلقات میں تیزی سے آتی گراوٹ کی نگرانی کی ۔

فیصلہ کن موڑ مئی 2025 ء میں ’’آپریشن سیندور‘‘ کے دوران آیا۔بھارتیوں کی رو سے وہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے دہشت گردانہ حملے کا نپا تلا بھارتی عسکری جواب تھا۔ بھارت کے نزدیک دہشت گردی سے لڑنے والے ایک شراکت دار کی حمایت کرنے کے بجائے ٹرمپ نے شیخی ماری کہ انہوں نے دباؤ کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کو صرف ساڑھے تین دن میں اپنا جوابی حملہ روکنے پر مجبور کر دیا۔

بھارت سمجھتا ہے، اس زبردست مداخلت نے امریکہ کے دیرینہ اہم غیر نیٹو اتحادی کو سرحد پار دہشت گردی کے نتائج سے بچا لیا اور بھارت و امریکہ اسٹریٹجک اعتماد کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچایا۔ ٹرمپ کی واپسی کے چند ہفتوں کے اندر ہی پاکستان کے لیے امریکہ کے رویّے میں نرمی نظر آنے لگی تھی۔ تاہم مودی کے فروری 2025 ء میں وائٹ ہاؤس دورے پر بھارتی خوشی نے ان علامتوں کو چھپا دیا۔

اسی مہینے ٹرمپ کی عالمی امداد کی معطلی کے دوران پاکستان کے لیے 397 ملین ڈالر کی سیکیورٹی امداد کی ایک نمایاں استثنیٰ (چھوٹ) رکھی گئی۔ مارچ 2025 ء میں کانگریس سے اپنے خطاب میں انہوں نے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کرنے میں مدد دینے پر پاکستان کی واضح طور پر تعریف کی۔ اس کے بعد اپریل 2025 ء میں پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان ایک سرمایہ کاری کا معاہدہ ہوا جو بنیادی طور پر ٹرمپ خاندان کی ملکیتی ایک کرپٹو فرم ہے۔ جب ٹرمپ نے 39 ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندیوں کی رونمائی کی تو پاکستان کو اس سے استثنیٰ دے دیا گیا۔

بھارتی دانشوروں کا دعوی ہے، امریکہ توازنِ طاقت کا روایتی طریقہ کار دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مالیاتی پیکیجوں کے ذریعے پاکستان کی مالی معاونت اور اس کے ایف سولہ طیاروں کے فلیٹ (جو اسلام آباد کے لیے جوہری ہتھیار پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں) کو جدید بنا کر واشنگٹن شعوری طور پر پاکستان کو بطور ذیلی براعظمی توازن فعال کر رہا ہے تاکہ خطّے میں بھارت کی برتری کو روکا جا سکے۔اس طرح ’’آپریشن سیندور‘‘ نے سرد جنگ دور کے اُس امریکی ’’جھکاؤ‘‘ کی واپسی کی تصدیق کر دی جو پاکستان کی طرف تھا۔اس کی تاریخ 1971 ء سے ملتی ہے جب صدر رچرڈ نکسن کی انتظامیہ بنگلہ دیش میں جنگ کے دوران پاکستانی عسکری کارروائیوں میں برابر کی شریک تھی۔

امریکہ کی ایشیائی حکمت عملی میں بھارت کی اسٹریٹجک تنزلی کا سب سے بڑا اشارہ نظریاتی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے حال ہی میں ’’انڈو-پسیفک‘‘ کے نام سے ’’انڈو‘‘کا سابقہ ختم کرنا گزشتہ ایک دہائی سے جاری اقدار پر مبنی اتحاد کی تعمیر کے عمل سے ہٹ کر ایک محدود اور واضح طور پر لین دین پر مبنی (ٹرانزیکشنل) فریم ورک کی طرف تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔بھارت کے بارے میں اِس سرد اور ٹرانزیکشنل رویّے کی عکاسی ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی قومی سلامتی کی حکمت عملی (این ایس ایس) سے بھی ہوتی ہے جس میںاُس کی 2017 ء والی سابقہ حکمت عملی کے برعکس بھارت یا کواڈ کا بمشکل ہی ذکر کیا گیا اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات صرف ’’تجارتی تعلقات میں بہتری‘‘ کے محدود تناظر میں پیش کیے گئے۔

اس تبدیلی کو امریکی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ کا مارچ میں نئی دہلی میں دیا گیا بے باک اعتراف بہتر طاور پہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن بھارت کو آزادانہ طور پر ترقی کرنے اور معاشی طور پر امریکہ سے آگے نکلنے دے کر اپنی چین والی غلطی نہیں دہرائے گا۔ لینڈاؤ نے اعلان کیا: ’’بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم بھارت کے ساتھ وہی غلطیاں نہیں دہرانے جا رہے جو ہم نے بیس سال پہلے چین کے ساتھ کی تھیں، یہ کہہ کر کہ ہم آپ کو تمام منڈیاں تیار کرنے دیں گے‘ اور پھر اگلی چیز ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ بہت ساری تجارتی چیزوں میں ہم سے آگے نکل رہے ہیں۔‘‘

دو دہائیوں سے واشنگٹن کا غالب بیانیہ یہ رہا ہے کہ ایک ابھرتا جمہوری بھارت آزاد دنیا کے لیے فطری طور پر بہتر ہے… تیزی سے آمرانہ ہوتے چین کے مقابلے میں ایک توازن۔ لینڈاؤ کے تبصرے نے اِس رومانیت کو چکنا چور کر دیا۔ واشنگٹن اب چین کے اس عروج کوجس میں امریکہ کا بھی ہاتھ تھا،ایک ایسی اسٹریٹجک غلطی کے طور پر دیکھتا ہے جس نے امریکہ کے صنعتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا اور وہ بھارت کے ساتھ یہ غلطی دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سادہ الفاظ میں واشنگٹن میں اب بھارت کو بنیادی طور پر ایک ایسے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھا جاتا جس کو فروغ دیا جائے، بلکہ ایک ایسے ممکنہ معاشی حریف کے طور پر دیکھا جا رہا جس کا عروج خاموشی سے محدود کیا جائے، مبادا یہ طویل المدتی امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن جائے۔

عملی طور پر واشنگٹن یہ اعلان کر رہا ہے کہ ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کا اصول جتنا دشمنوں پر لاگو ہوتا ہے، اتنا ہی دوستوں پر بھی ہوتا ہے۔بھارت کے عروج کو ایشیا میں توازنِ طاقت کے لیے فائدے مند سمجھنے کے بجائے امریکہ کا مقصد اب اس عروج کو یوں کنٹرول کرنا ہے کہ بھارت دوسرا چین نہ بن جائے۔بھارت کو امریکی ہتھیاروں، توانائی، الیکٹرانکس، صارف اشیاء اور زرعی مصنوعات کے لیے ایک حتمی منڈی کے طور پر تو تیار کیا جائے گا، لیکن ٹیرف، ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندیوں، علاقائی توازن اور براہِ راست جیو پولیٹیکل دباؤ کے ذریعیایک ایسی آزاد طاقت بننے سے روکا جائے گا جو امریکی مینوفیکچرنگ اور اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچا سکے۔

’’مشترکہ اقدار‘‘ کا فریم ورک (دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت اور سب سے بڑی جمہوریت کا ملن) شراکت داری کی تعمیر کے مرحلے کے دوران اتفاقِ رائے قائم کرنے کے لیے مفید تھا، لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ میں اقدار پر مبنی سفارت کاری کا کوئی شوق نہیں رہا۔وہ دور ختم ہو چکا جب بھارت یہ فرض کر سکتا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ اپنی شراکت داری گہرا کرنے سے جدید ٹیکنالوجی کی ضمانت مل جائے گی۔ اعتماد کا یہ بحران دفاعی اور صنعتی شعبے میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔امریکی کمپنی، جنرل الیکٹرک (GE) ایرو اسپیس کا معاہدے کے مطابق جیٹ انجن فراہم کرنے میں ناکامی نے بھارت کے اپنے لڑاکا طیاروں کے پروگراموں (تیجس Mk1A، تیجس Mk2، اور ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ یعنی AMCA) کو شدید متاثر کیا ہے۔

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے تقریباً 30 بالکل نئے تیجس Mk1A ایئر فریمز تیار کر کے ان کی فلائٹ ٹیسٹنگ بھی کر لی ہے جو مکمل طور پر تیار رن وے پر پڑے ہیں، لیکن ان کے پاس انجن نہیں ۔ فلیٹ میں کم جیٹ طیاروں کی وجہ سے بھارتی فضائیہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول جیسے متنازع بارڈر پر معمول کی کامبیٹ ایئر پٹرولنگ کے لیے  Su-30MKجیسے بھاری اور کہیں زیادہ مہنگے جڑواں انجن والے لڑاکا طیاروں کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ اس سے ان کی فضائی صلاحیت وقت سے پہلے ختم ہو رہی ہے اور بھارت کی علاقائی فضائی طاقت کا توازن ایک ایسے وقت خطرناک حد تک متاثر ہو رہا ہے جب پڑوسی فضائی افواج تیزی سے جدید 4.5 اور 5ویں نسل کے پلیٹ فارم شامل کر رہی ہیں۔

یہ انتہائی کڑوی سچائی ہے: ایک طرف امریکی وعدہ خلافیوں کے باعث بھارت کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے، تو دوسری طرف واشنگٹن نے فعال طور پر پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کو جدید بنایا ہے تاکہ وہ بھارت کے خلاف مزید مہلک ہو سکیں۔ واشنگٹن یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اس کا مقصد بھارت کو صرف اتنا استعمال کرنا ہے کہ چین مصروف رہے—…بغیر اِس کے کہ بھارت کو حد سے زیادہ ابھرنے دیا جائے۔

لہٰذا یہ بات بالکل غیر متوقع نہیں کہ واشنگٹن نے منظم طریقے سے کواڈ کو ترجیح دینا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ واضح عسکری نظام رکھنے والے نئے کثیر الجہتی گروہوں کی حمایت کرتا ہے، جیسے ’’اسکواڈ‘‘ (Squad)۔ کواڈ میں بھارت کے برعکس اسکواڈ کے ارکان…امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن سب باضابطہ معاہدے کے تحت اتحادی اور سخت دفاعی حکمت عملی پر متفق ہیں۔کواڈ کو چینی توسیع پسندی کے خلاف ایک اسٹریٹجک دیوار کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ لیکن ٹرمپ کے شئی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ ہم آہنگی کے حصول کے باعث جس کی علامت ان کا حالیہ دورہ بیجنگ ،کی وسیع تر انڈو-پسیفک حکمت عملی کو خاموشی سے قربان کر دیا گیا۔سب سے تلخ حقیقت امریکی حکمت عملی میں بھارت کی تنزلی ہے جو انڈو-پسیفک نظم و ضبط کے ’’بنیادی ستون‘‘ (لنچ پن) سے گھٹ کر جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کا ایک ’’مقامی اداکار‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔

جیسا کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے شانگری لا ڈائیلاگ میں نوٹ کیا، واشنگٹن اب بھارت کو جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند میں مقامی توازنِ طاقت برقرار رکھنے کے لیے ’’اپنے ذاتی مفاد میں کام کرتے ‘‘ ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بھارت اب ایشیا-پسیفک کی عظیم حکمت عملی کا مرکزی ستون نہیں رہا بلکہ برصغیر اور بحرِ ہند تک محدود ایک کھلاڑی بن کر رہ گیا ہے۔

واشنگٹن اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے… پاکستان کو دوبارہ ایک ’’مرکزی ریاست‘‘ (پیوٹ اسٹیٹ) کے طور پر اپناتے اور ایک امریکی-چینی ’’G2‘‘ کی حمایت کا اشارہ دیتے ہوئے جو عالمی نظام مشترکہ طور پر سنبھالے گا۔ گزشتہ خزاں سے ٹرمپ نے بار بار ’’G2‘‘ فریم ورک کا حوالہ دیا ہے۔بھارت کی گراوٹ اب بالکل واضح ہے…ٹرمپ کی جانب سے 2025 ء میں بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا کر معاشی جنگ کے آغاز سے لے کر بین الاقوامی پانیوں میں امریکی بحریہ کے ہاتھوں تین بھارتی ملاحوں کے حال ہی میں مارے جانے تک۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 2016 ء کے لوجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ کے تحت امریکی بحریہ کو بھارتی بندرگاہوں پہ پُرامن لاجسٹک سہولیات حاصل ہیں۔

اس دوران واشنگٹن نئی دہلی پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے جو بھارتی معیشت کو امریکی برآمدات کے لیے مزید کھول دے گا۔گویا حتیٰ کہ امریکی پالیسی بھارت کی معاشی طاقت، علاقائی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک خودمختاری کمزور کرتی ہے۔ اس صورتحال میں بھارت کے پاس خود کفالت تیز کرنے اور متبادل شراکت داروں کی تلاش کے ذریعے اپنے تحفظ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔

جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ، ایس پال کپور نے بارہا کہا ہے کہ واشنگٹن کا بنیادی علاقائی مقصد برصغیر پر کسی ایک طاقت کا غلبہ روکنا ہے…ایک ایسا مقصد جسے بھارت میں بہت سے لوگ چین کی اِس حکمت عملی کے عین مطابق دیکھتے ہیں جس کا مقصد بھارت کو محدود رکھنا ہے۔ یہ مقصد ’’آفشور بیلنسنگ‘‘کی نصابی تعریف پر بھی پورا اترتا ہے: یعنی ایک بڑی طاقت کا علاقائی اتحادیوں اور حکمت عملیوں پر انحصار تاکہ کسی ابھرتی ممکنہ علاقائی طاقت کا راستہ روکا جا سکے۔

بھارت کے اپنے پڑوس میں امریکی اور بھارتی مفادات شدید تصادم کا شکار ہیں…نیپال، بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا، مالدیپ، پاکستان اور افغانستان تمام ملکوں میں۔ یہ تضاد انتہائی نمایاں ہے: دونوں ممالک عالمی سطح پر شراکت دار بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے مفادات بھارت کے اپنے اسٹریٹجک صحن میں ٹکرا رہے ہیں جس سے ایک ناگوار سوال پیدا ہوتا ہے: اگر امریکہ بھارت کے بنیادی علاقائی مفادات کے خلاف کام کرتا ہے تو وہ ایک حقیقی عالمی شراکت دار کیسے ہو سکتا ہے؟

بھارت کے اپنے صحن میں واشنگٹن خود کو نہ صرف بیجنگ بلکہ تیزی سے نئی دہلی کے مقابلے میں بھی ایک توازن کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال نیپال ہے جو تقریباً 1800 کلومیٹر لمبی کھلی سرحد، گہرے ثقافتی و معاشی تعلقات اور لاکھوں مقیم تارکینِ وطن کے ذریعے بھارت سے جڑا ہوا ہے۔ نیپال طویل عرصے سے بھارت کی سیکیورٹی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت کا حامل رہا ہے۔پھر بھی واشنگٹن نیپال کو بھارت کی پالیسی کے ایک جزو کے بجائے تیزی سے ایک آزاد ترجیح کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس کے تحت سینئر امریکی حکام کے کٹھمنڈو کے دورے بار بار ہو رہے ہیں۔بھارت کی قریبی سرحدوں پر واشنگٹن کی پالیسیاں نئی دہلی کے موقف سے تیزی سے متصادم ہو رہی ہیں۔ برصغیر میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ سے بھارت کا علاقائی اثر پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا، اور اب اسے امریکہ کے دراز ہوتے سائے کا بھی سامنا ہے۔