ایک بھی امریکی فوجی ایران میں داخل ہوا تو زندہ نہیں بچے گا، ایرانی فوج کی امریکا کو سخت دھمکی

ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے


ویب ڈیسک August 10, 2026

تہران: ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے واضح کیا کہ ملک کی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ایران کی سرحدوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لائے گی۔

جنرل علی جہانشاہی نے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتے گا۔ ان کے مطابق اگر دشمن کی جانب سے کوئی کارروائی کی گئی تو ایرانی فوج اس کا فوری اور مؤثر جواب دے گی۔

ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے مسلسل صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر کے مطابق ملک کی سرحدوں پر سکیورٹی انتظامات مسلسل فعال ہیں اور فوجی یونٹس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی حکام ماضی میں بھی متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی سرزمین پر براہ راست زمینی کارروائی کی صورت میں امریکی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل جہانشاہی کا تازہ بیان ایران کی جانب سے امریکا کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی زمینی فوجی مداخلت کو انتہائی سنجیدگی سے لے گا۔

دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں ایرانی اور امریکی حکام کے بیانات کو عالمی سطح پر بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔