گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال؛ وفاقی حکومت اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع

ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال تیسرے روز بھی جاری ہے


ویب ڈیسک August 10, 2026

کراچی/ اسلام آباد:

ملک بھر میں جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال کے معاملے پر وفاقی حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر پیٹرولیم پرویز علی ملک، وزیر پورٹ اینڈ شپنگ اور وزارت خزانہ کے نمائندے شریک ہیں۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے صدر ملک شہزاد اعوان سمیت اتحاد کے رہنما چوہدری قمر زمان گل، ملک شبر خان، نثار حسین جعفری، امداد حسین نقوی اور چوہدری اویس مذاکرات میں شریک ہیں۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان کی پر امن ہڑتال کی کال پر پورٹ قاسم پر موجود تمام ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہماری پر امن ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔

دوسری جانب ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال تیسرے روز بھی جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے مطابق کراچی سے چترال تک چھوٹی بڑی مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن، دیر چترال ہائی وے، چکدرہ موٹروے اور سوات سمیت مختلف علاقوں میں بھی ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہے۔

ٹرانسپورٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تین روز سے جاری ہڑتال کے باعث سیکڑوں پھلوں اور سبزیوں سے لدی گاڑیاں کھڑی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں اور سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رکھی جائے گی۔

حکومت اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات میں مطالبات اور ہڑتال ختم کرنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔