جنگ سے پہلے والا آبنائے ہرمز اب کبھی بحال نہیں ہوگا، ایران کا بڑا اعلان

خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس نئی صورتحال کو تسلیم کرنا ہوگا، ایرانی نائب اسپیکر


ویب ڈیسک August 10, 2026

تہران: ایران کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں آئے گی اور خطے میں اب بحری آمدورفت کے حوالے سے ایک نیا نظام تشکیل پائے گا۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ علی نیکزاد نے ایرانی پارلیمنٹ میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ہی اپنے مخالفین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ آبنائے ہرمز پہلے کی طرح نہیں رہے گی۔

علی نیکزاد کے مطابق ایران نے بارہا واضح کیا کہ جنگ کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے معاملات ماضی کے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائے جائیں گے، تاہم ان کے بقول مخالف فریق نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت واضح ہوگئی ہے اور امریکا اور اسرائیل اب اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔

ایرانی نائب اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس نئی صورتحال کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ نظام کی عملی شکل کیا ہوگی۔

حالیہ عرصے میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ محفوظ بحری راستے کا تعین اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا دو الگ معاملات ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق مستقبل میں بحری جہازوں کی آمدورفت، سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر بحری خدمات کے لیے نئے طریقہ کار وضع کیے جا سکتے ہیں۔

علی نیکزاد نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کی موجودہ ترجیحات میں ملک کے معاشی مسائل کا حل سب سے اہم ہے۔

ان کے مطابق جنگ اور طویل کشیدگی کے باعث ایرانی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں اقتصادی مسائل کم کرنا اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔