کراچی:
نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی سے حاصل کیے گئے سیمپلز 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود جامعہ کراچی کی فرانزک لیب نہیں پہنچ سکے۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز قبر کشائی کے دوران 17 سیمپلز حاصل کیے گئے تھے، جبکہ مقتول کے والدین کے بھی 2 ڈی این اے سیمپلز لیے گئے تھے، تاہم دو روز گزرنے کے باوجود یہ سیمپلز تاحال ٹیسٹنگ کے لیے جامعہ کراچی کی فرانزک لیب نہیں بھیجے جا سکے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق تمام سیمپلز تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے، سیمپلز کو فرانزک لیب تک پہنچانا کیس کے تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام کام مکمل کر دیا گیا ہے، اب مزید کارروائی جامعہ کراچی کی فرانزک لیب کی جانب سے کی جائے گی۔
میر رضا قتل کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز ہی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے اور وہ سابقہ انکوائری کمیٹی کا حصہ نہیں تھے۔ ان کے مطابق سیمپلز کے حوالے سے انہیں فی الحال معلومات نہیں، جبکہ انکوائری کا آغاز آج سے ہوگا، جس کے بعد ہی مزید تفصیلات بتائی جا سکیں گی۔
دوسری جانب جامعہ کراچی کی فرانزک لیب حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک سیمپلز ان کے پاس نہیں پہنچے۔ لیب حکام کے مطابق وہ ہفتے کے روز سے سیمپلز اور ڈی این اے نمونوں کا انتظار کر رہے ہیں، سیمپلز موصول ہوتے ہی فرانزک ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔