میر  رضا قتل کیس، تحقیقاتی کمیٹی میں مزید 2 افسران کی شمولیت کا امکان

ورثا کی درخواست پر ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر کو تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا، پولیس ذرائع


شاہ میر خان August 10, 2026
فوٹو ایکسپریس

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی اندوہناک موت کے حوالے سے قائم کی گئی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس پانچ گھنٹے طویل رہا جس میں ورثا کی درخواست پر مزید دو افسران کو شامل کرنے پر غور کیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس میں کیس کے محرکات، شواہد، پیشرفت اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں کیس کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر دیکھنے پر غور کیا گیا جبکہ کیس میں ناقص تفتیش کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔

پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں میر رضا کے والدین اور وکیل کی جانب سے تجویز کردہ دو افسران کو شامل کرنے پر بھی غور کیا گیا جس کے بعد کمیٹی میں مزید دو اراکین کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ورثا کی جانب سے ایک ڈی ایس پی اور ایک  انسپکٹر کو ٹیم شامل کرنے کی درخواست  کی گئی ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران کو جلد تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرلیا جائے گا۔

اُدھر آئی جی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمام چیزوں کو غلط فہمی کی بنیاد اور آپس میں رابطہ کاری نہ ہونے کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میررضا کیس میں مس کمیونیکیشن ہوئی اب اس پر نئی کمیٹی تحقیقات کررہی ہے جس میں واقعے سے متعلق حقیقت سمجھ آجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میرےخیال میں مس کمیونی کیشن کامسئلہ آیا ہے جس کی وجہ سے کیس خراب ہوا بہرحال حقیقت سامنےآجائےگی۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ پرانی ٹیم کا مقصد بھی کیس کی شفاف تحقیقات تھا اس لیے انہوں نے والدین سے گاہے بگاہے رابطے، ملاقاتیں کر کے شواہد مانگے اور کسی پر شک ہونے کی صورت میں نام بھی مانگا۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اب واضح ہدایت کردی ہے کہ کیس کے حوالے سے بات چیت کو شفاف اور واضح انداز میں فیملی و میڈیا کے ساتھ شیئر کریں تاکہ مزید بگاڑ نہ ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کیس کی پرانی تحقیقات میں کچھ تکنیکی خرابیاں تھیں تاہم اُس پر متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔