اتحادی حکومت کی مصنوعی اپوزیشن

پیپلز پارٹی کی ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ جو کام اپوزیشن کا تھا ،وہ کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔


[email protected]

پیپلز پارٹی کی ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ جو کام اپوزیشن کا تھا ،وہ کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔ وہ یہ بتانا بھول گئیں کہ پیپلز پارٹی کو یہ کام آزاد کشمیر کے انتخابات میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد کیوں یاد آیا کہ پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے صرف انتخابی مہم میں اپوزیشن کا کردار کیا اور انھوں نے (ن) لیگ مخالف بیان دیے جو حکومت سے باہر بیٹھی، اصلی اپوزیشن سے بھی زیادہ سخت تھے ۔

(ن) لیگ کی وفاقی حکومت خود پیپلز پارٹی نے قائم کرائی تھی اور پہلے بلوچستان کی حکومت مسلم لیگ (ن) سے مل کر بنائی تھی۔ جی بی کی حکومت بھی پی پی نے (ن) لیگ کی حمایت سے حاصل کی اور (ن) لیگ نے حکومت سازی میں ایسے ہی پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا جس طرح وفاقی حکومت سازی کے وقت (ن) لیگ کا ساتھ پی پی نے دیا تھا جس میں ان کے والد کے پاس ملک کا سب سے بڑا عہدہ ہے۔

 یہ بھی سو فی صد حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دو الگ الگ متحارب پارٹیاں ہیں جن کے الگ الگ منشور اور سیاسی پالیسیاں ہیں۔ 1988 کے بعد دونوں ہی پارٹیوں نے تین تین بار ملک پر حکمرانی کی تھی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہیں جن میں سندھ کی موجودہ حکومت مسلسل برسر اقتدار ہے اور یہ اعزاز مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں کبھی حاصل نہیں رہا۔

پنجاب میں پہلی بار نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تھی اور مریم نواز پنجاب میں شریف فیملی کی چوتھی وزیر اعلیٰ ہیں ۔ ماضی میں پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان سخت سیاسی مخالفت رہی۔ دونوں کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خلاف کرپشن سمیت مختلف مقدمات بنائے گئے تھے جو عدالتوں میں ثابت نہیں ہوئے اور آصف زرداری طویل حراست کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

 جنرل پرویز مشرف نے حکومت میں آ کر دونوں پارٹیوں کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر ناکام رہے تھے اور دونوں پارٹیوں کی قیادت کو طویل عرصہ جلا وطن رہنا پڑا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی دونوں پارٹیوں کی مخالفت کے باعث 2005 میں لندن میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہوا تھا کہ دونوں پارٹیاں اقتدار میں آ کر ایک دوسرے کی ماضی کی طرح مخالفت نہیں کریں گی اور آئینی مدت پوری کریں گی جس کے بعد 2007 میں پہلے بے نظیر کو اور بعد میں نواز شریف کو اپنی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کا موقعہ ملا تھا۔

 وطن واپس آ کر دونوں نے ماضی کے برعکس مثبت سیاست کی اور دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے پہلی بار قریب آئی تھیں اور ان کی سیاسی دشمنی ختم ہوئی تھی۔ 2007ء کے انتخابات جنرل مشرف دور میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا اور 2008 کے الیکشن میں دونوں پارٹیوں نے ماضی کی طرح اس طرح انتخابی مہم نہیں چلائی تھی جس طرح بلاول بھٹو 2023 سے چلاتے آ رہے ہیں جب کہ وہ 2022 میں وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ رہے تھے مگر پی ڈی ایم حکومت ختم ہونے پر ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھرپور مخالفانہ مہم چلائی تھی جو میثاق جمہوریت کے برعکس تھی جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تھی۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے پہلی بار اقتدار میں آ کر پی پی اور (ن) لیگ اور دونوں کی قیادت کو اپنے بھرپور سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر دونوں پارٹیوں کو مزید قریب آنے پر مجبور کر دیا تھا جس پر دونوں نے دیگر سے اتحاد کرکے عمران خان کا اقتدار آئینی طور پر ختم کرایا تھا۔

 جنرل پرویز کی صدارت میں پی پی اور (ن) لیگ نے مل کر حکومت بنائی اور جنرل مشرف کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ مگر بعد میں (ن) لیگ آصف زرداری سے شکایات کے بعد پی پی حکومت سے الگ ہو گئی تھی جس کے کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت گورنر راج کے ذریعے ختم کر دی تھی جو عدالت عالیہ کے حکم سے بحال ہوئی تھی اور دونوں پارٹیوں میں دوری انتہائی حد تک بڑھ گئی تھی مگر پی پی حکومت نے مدت پوری کی تھی جس کے بعد 2013 میں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے سبکدوش ہونے والے صدر زرداری کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ بھی دیا تھا۔

 دونوں پارٹیوں کے درمیان بعد میں اختلافات بھی بڑھے مگر پی پی نے نواز شریف کا ساتھ دے کر پی ٹی آئی کا دھرنا اور حکومت ختم کرانے کی کوشش ناکام بنائی مگر سپریم کورٹ نے پہلے پی پی کے اور بعد میں (ن) لیگ کے وزیر اعظم کو نااہل کیا تھا جس کی وجہ سے دونوں کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب آنا پڑا تھا۔

 (ن) لیگ اور پی پی کی موجودہ اتحادی حکومت تو ہے مگر پی پی نے اہم آئینی عہدے لیے وزارتیں نہیں لی تھیں اور اس حکومت نے پی پی کی مدد سے آئینی ترامیم بھی کیں اور مل کر ڈھائی سال بھی گزار لیے ہیں مگر آزاد کشمیر میں کامیابی نہ ملنے پر بلاول بھٹو ناراض ہو کر سخت حکومت مخالف بیانات دے کر اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آگئے ہیں مگر سیاسی حلقے پی پی کو حکومت کی مصنوعی اپوزیشن قرار دے رہے ہیں جب کہ اصل اپوزیشن پی ٹی آئی ہے۔ (ن) لیگ کے برعکس پیپلز پارٹی کے رہنما پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں (ن) لیگ سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی نے پہنچایا ہے۔