یہ قانون کے رکھوالے

غریب خاندان کو انصاف اپیلیں کرنے اور درخواستیں کرنے سے نہیں ملتا ہے۔ غریب لوگ رو دھو کر صبر شکر کرکے بیٹھ جاتے ہیں



یہ ذکر ہے 1857 کا جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت پورے برصغیر میں اپنی حکومت کے سو برس پورے کر چکی تھی۔ چنانچہ 1857 ہی میں پورے برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی سامراج کے خلاف آزادی کی لہر پیدا ہوگئی۔ ممکن تھا یہ آزادی کی لہر ایک انقلاب ثابت ہوتی لیکن بھارتی نوجوانوں پر مشتمل فوج لیڈر شپ کے نہ ہونے سے اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔

یہ ضرور ہوا کہ اسی برس بھارت کا کنٹرول برٹش سرکار نے اپنے ہاتھوں میں لیا، گویا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ برطانوی سامراج یہاں مسلط ہوگیا، چنانچہ برٹش سرکار نے برصغیر میں محکمہ پولیس کو جدید شکل میں قائم کیا۔ 1861 میں اس وقت چونکہ پولیس کا محکمہ ایک سامراجی سرکار نے قائم کیا تھا، چنانچہ اس وقت پولیس کو لامحدود اختیارات دیے گئے، پولیس برصغیر کے عوام پر جس قدر بھی مظالم کرتی وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ تھی کیونکہ برصغیر کے عوام ایک غلام ملک کے غلام تھے۔

 14 اگست 1947 کو برصغیر کی تقسیم ہوئی۔ ایک نیا ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا پاکستان۔ اس وقت ضرورت اس امرکی تھی کہ محکمہ پولیس کی اصلاح کی جاتی اور محکمہ پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جاتا لیکن قیام سے آج تک جب کہ 79 واں یوم آزادی منانے جا رہے ہیں، اس ملک میں 14 صدور، 25 وزرا اعظم و 7 نگران وزرا اعظم بھی آئے مگر محکمہ پولیس کی اصلاح کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ چنانچہ آج بھی پولیس کے پاس لامحدود اختیارات ہیں۔ یہ پولیس جس شہری کو چاہے گرفتار کرسکتی اور کوئی جواز پیش کرکے اس شہری پر جتنا چاہے تشدد کرسکتی ہے۔

جعلی پولیس مقابلے عام سی بات ہیں۔ پولیس کا نظام وہی چل رہا ہے جو انگریز نے غلامی کے دور میں یہاں کے لوگوں کو دبانے کے لیے بنایا تھا۔ انگریزوں کے اپنے ملک میں بھی یہ نظام نہیں چل رہا مگر ہم آزادی کے بعد بھی آج تک اس نظام کو گلے لگائے ہوئے ہیں اور اسے بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اگرچہ چند آوازیں ضرور اٹھتی ہیں کہ نہ صرف پولیس بلکہ تمام اداروں کے نظام میں اصلاحات کی جائیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ انگریز وہ نظام یہاں کے لوگوں کو دبانے اور اپنے مفادات پورا کرنے کے لیے بنایا تھا اس لیے یہ نظام یہاں جاگیرداروں اور سیاستدانوں کو مناسب لگتا ہے اور یہی نظام ان کے جابرانہ امور کو تحفظ دیتا ہے ۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ یہ نظام بدلے کیونکہ اگر یہ نظام بدل گیا تو کل کسی بد اعمالی کی بنا پر وہ بھی قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔

چند برس قبل پنجاب حکومت نے یہ کام ضرور کیا کہ پولیس کی وردی تبدیل کردی، البتہ ضرورت اس امر کی تھی کہ پولیس تھانہ کلچر تبدیل کر دیا جاتا ۔ مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا چنانچہ کیفیت یہ ہے کہ پولیس ایک خوف کی علامت بن چکی ہے کوئی شریف و عام شہری کسی جائز کام کے لیے بھی تھانے کا رخ کرنے سے گھبراتا ہے۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ شام کے بعد کوئی خاتون کسی بھی تھانے میں کوئی عرضی لے کر نہ آئے۔ آج کل جس طرح ملک بھر میں پولیس اہلکاروں کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں آ رہی ہیں اس کا تقاضا یہی ہے کہ اس نظام کو فوری طور پر بدلا جائے تاکہ غریب لوگوں کو بروقت انصاف مل سکے۔

 غریب خاندان کو انصاف اپیلیں کرنے اور درخواستیں کرنے سے نہیں ملتا ہے۔ غریب لوگ رو دھو کر صبر شکر کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جھولیاں اٹھا کر بددعا کر لیں گے اور بدعاؤں سے بیل کب مرتے ہیں؟ لیکن انسانی ضمیر ابھی زندہ ہے اور جب تک ایک انسان کا ضمیر بھی زندہ ہے مظلوموں کے لیے آواز اٹھتی رہے گی یہی فطرت کا عمل ہے۔ چنانچہ سوشل میڈیا پر بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ASI ظالموں کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے؟ ناممکن۔ کیونکہ آج تک ظلم کے بعد کوئی پولیس اہلکار سزا نہیں پا سکا۔ یہی آج بھی ہو رہا ہے، یہ نظام ان پولیس والوں کو سزا سے بچانے کے لیے کافی گنجائش رکھتا ہے۔ چنانچہ نظام کی تبدیلی ضروری ہے، اس نظام کے بوسیدہ ہونے کی جانب حکومتی وزراء تک اشارہ کر چکے ہیں۔ باقی رہ گئے ظالم لوگ تو وہ قدرت کی لاٹھی کا انتظار کریں جو بے آواز ہوتی ہے اور اچانک بلند ہوتی ہے۔