پنجاب کے ضلع گجرات میں گینگ ریپ کا شکار 17 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔
رپورٹ کے مطابق 17 سالہ لڑکی کو 5 ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، بعد ازاں میانہ گوندل پولیس تھانے کی حدود میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں ساندہ میں پراسرار حالات میں لڑکی نے "خودکشی " کرلی۔
شکایت کنندہ، ساندہ گاؤں کے رہائشی ذوالفقار احمد نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر میں اکیلا چھوڑ کر ایک مقامی دکان پر کچھ سامان خریدنے گیا تھا، جب وہ واپس آیا تو اس نے اپنی بیٹی کو مردہ حالت میں پایا۔
اپنی بیٹی کے انتہائی قدم کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی غیر موجودگی میں اسی گاؤں کے 5 ملزمان نے مبینہ طور پر اسے اغوا کیا اور اسے علاقے کی ایک جگہ لے گئے، جہاں انہوں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں اسے اس کے گھر چھوڑ دیا، میری بیٹی نے لبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کی کلائیوں پر بھی زخم تھے تاہم پولیس نے پانچ نامزد ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقدمہ درج کرنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ گینگ ریپ کے الزام کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا جب کہ متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرانزک شواہد جانچ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) لیب میں بھیجے جائیں گے، کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔