سلمان اکرم راجا نے مال روڈ پر ہلاک ’پی ٹی آئی کارکن‘ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا

پی ٹی آئی کا کسی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں رہا، وہ کس گروہ کا تھا، اکیلا تھا، پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے، رہنما پی ٹی آئی


ویب ڈیسک August 11, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے مال روڈ واقع میں ملوث دہشتگرد سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جب کہ مشعال یوسف زئی کے خلاف سخت ایکشن کا اشارہ بھی دے دیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کال پر پی ٹی آئی کے رہنما اور وکلا سپریم کورٹ کے باہر پہنچے، پی ٹی آئی ایم این اے شاندانہ گلزار، جنید اکبر اور وکلا سپریم کورٹ کے باہر موجود تھے جبکہ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی نفری بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات رہی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں، جو بھی دستیاب فورم ہوگا اسے استعمال کریں گے۔ ہمیں اندازہ ہے کہ سسٹم بے توقیر ہو چکا اور ادارے یرغمال ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کو بھی یاد دہانی کروانی ہے کہ عدلیہ کی بے توقیری ہو رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ میرے بھائی ہیں، اختلافات ہوتے رہتے ہیں، ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جس سے اختلاف بڑھیں۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ کرنا سینئر قیادت کا کام ہے۔

ملاقات کے بعد سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے متعلق درخواستیں زیر التوا ہیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلے ہفتے کیسز سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گے، دو روز بعد کاز لسٹ بھی جاری کردی جائے گی۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز فوری طور پر سنے جائیں اور ان کی بہنوں اور معالجین سے ملاقات کرائی جائے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معالجین سے ڈیڑھ سال سے ملاقات نہیں ہوئی، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سیاست کی بات کرنا ان کا حق ہے لیکن ان کی صحت کے پیش نظر ہم کہتے ہیں کہ وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔ اگلے ہفتے یہ معاملہ عدالت کے سامنے رکھیں گے اور امید ہے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے ریلیف ملے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمعرات کو حقیقی آزادی کے لیے دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے، پوری قوم سے کہتا ہوں 13 اگست کو نکلیں۔

بعد ازاں اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے مال روڈ واقع میں ملوث دہشتگرد سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جب کہ مشعال یوسف زئی کے خلاف سخت ایکشن کا اشارہ بھی دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ باتیں غلط ہیں جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے، جو جس غلاظت سے نکل کر آیا ہے وہ ایسی ہی بات کرے گا اس کے ذہن کا کچھ نہیں کرسکتا، جس نے جو بات کی ثبوت دینا ہوگا، بے ہنگم اور بے خودہ گفتگو کی ہے، پارٹی بلکل اس پر ایکشن لے گی، 27 سے پہلے روز ہم کچھ کررہے ہیں ایوانوں میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم کو کال ہے، ملک میں انقلاب قومیں لاتی ہیں، 50 سے 70 ہزار پارٹی عہدیدراوں انقلاب لانا ہے تو وہ نہیں لاسکتے، انقلاب تب آئے گا جب ہر گلی کوچے سے لوگ نکلیں گے، 5 اگست کو لاہور شہر کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا، یہ شروعات ہے پنجاب میں چھوٹے بڑے ایونٹس ہوئے یہ چیز اب بڑھے گی۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کسان، مزدور، طلبہ ہر طبقہ اس وقت مضطرب ہے، پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی پیشکش نہیں ہے، ہم نے اصول پر مزاکرات سے انکار نہیں کیا، ہمارے اتحادے سی مزاکرات کریں، پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں کسی ایک ایشو پر موقف ایک ہوسکتا ہے، میرے علم میں نہیں محسن نقوی سے ملاقات ہوئی ہے، پی ٹی آئی کا کسی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں رہا، وہ کس گروہ کا تھا، اکیلا تھا، پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم سڑک پر بھی آئین قانون کی بات کرتے ہیں، ہم کسی پرتشدد کاروائی کا حصہ نہیں ہوسکتے، بطور جماعت پی ٹی آئی کا راولپنڈی راول روڈ واقع سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں اتنا کہہ سکتا ہوں دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، سارا دن گفتگو ہوتی ررہی ہنگامی صورتحال میں میسجز ہوئے، رات 12 بجے میں نے میسجز نہیں کیے کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی ہمارے سیکرٹری انفارمیشن نے پیغامات بھیجے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھنا ہے واقعہ کیا ہے، تشویش کس چیز کی ہے، وقت گزر گیا، لیکن آج پارلیمینٹرین کی سپریم کورٹ کے باہر اچھی خاصی تعداد تھی، کیا جھوٹ اور غلاظت سے بھرے بیان پر پیار نچھاور کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے مشعال یوسف زائی کی گفتگو نہیں سنی، میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے جس نے بات کرنی ہے میرے منہ پر کرے، لیکن اگر ایسے ہوا میں کوئی غلاظت پھینکے گا تو اسی کے چہرے پر یہ غلاظت گرے گی، کس کو ٹکٹ بیچے یہ غلط بات ہے، ہوا میں یہ بات کردی گی سراسر جھوٹ بولا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پارٹی کو گروپس کو ساتھ لے کر رکھوں، مجھے بانی کی ہدایت تھی کہ مشعال یوسف زئی کو پارٹی سے نکال دو، لیکن اس خاتون کے ساتھ پارٹی کا ایک گروہ ہے، اس لیے اس پارٹی میں نفاق نہ پھیلے ہم روک گئے، لیکن اب حالات ایسے ہیں کہ ہمیں کچھ نہ کچھ ایکشن لینا ہوگا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اچکزئی سے کوئی گلے شکوے تھے، ہم بیٹھے وضاحت ہوگئی، اگر کوئی اپنا مخصوص ایجنڈا رکھتا ہے تو پارٹی میں اس کو کچلا جائے گا، آپ لاہور کا معاملہ دیکھیں میرا حلقہ این ائ 128 ہے میرے حلقے میں 5 ایم پی اے سب سے رابطہ ہے، کسی بھی حلقے میں سیاسی عہدیدار ہو سب سے میٹنگ ہوتی ہے، مجھ سے رہنمائی لیتے ہیں، لاہور کا حلقہ ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ مشعال کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کور کمیٹی، پارلیمانی پارٹی کرے گی، مجھے نہیں پتا کیا ہوگا لیکن اب کچھ نہ کچھ کریں گے۔