وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے دو تباہ کن زلزلوں میں تقریباً سات ہفتے بعد بھی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے ہلاکتیں 6 ہزار 301 تک پہنچ گئیں جبکہ 73 ہزار سے زائد زخمیوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعداد و شمار وینزویلا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر خورخے روڈریگز کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
ان کے بقول زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں کئی ہفتوں سے جاری ہیں تاہم تباہ شدہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ملبے کی صفائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں میں اب تک تقریباً 23 فیصد ملبہ ہی صاف کیا جاسکا ہے جس کے دوران بھی کئی لاشیں ملی ہیں۔
یاد رہے کہ وینزویلا میں 24 جون 2026 کو تقریباً ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں دو طاقتور زلزلے آئے تھے۔ پہلے زلزلے کی شدت 7.2 جبکہ دوسرے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دونوں جھٹکوں کا مرکز وینزویلا کے شمالی حصے میں تھا اور زلزلے دارالحکومت کراکس سمیت متعدد علاقوں میں شدید محسوس کیے گئے اور ابتدا میں ہی ماہرین نے خبردار کردیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔
ابتدائی دنوں میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پان امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن نے 25 جون کو بتایا تھا کہ کم از کم 188 افراد ہلاک، 1,500 سے زیادہ زخمی اور 157 افراد لاپتا تھے۔
متعدد عمارتیں منہدم ہوچکی تھیں اور امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔ زلزلوں کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی گئی۔
اقوام متحدہ کے اداروں کی ابتدائی رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ لا گوئرا، کراکس اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں متاثر ہوئی ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔
29 جون تک اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے کم از کم 1,719 ہلاکتوں، 5,034 سے زیادہ زخمیوں اور 15,866 متاثرہ افراد کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد جولائی میں بھی ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھتا رہا۔
رائٹرز نے 3 اگست کو رپورٹ کیا تھا کہ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتیں 6,125 تک پہنچ چکی تھیں، تقریباً 61 ہزار افراد کا علاج کیا جاچکا تھا جبکہ صرف 16.5 فیصد ملبہ صاف ہوسکا تھا۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہوگئیں جبکہ ہزاروں دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ جون کے اختتام تک اقوام متحدہ کے جائزے میں 2,501 انفراسٹرکچر سائٹس متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں رہائشی عمارتیں اور صحت کے مراکز بھی شامل تھے۔
بعد کے جائزوں میں بھی ہزاروں گھروں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ 11 اگست کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 53 ہزار سے زائد گھروں کا جائزہ لیا جاچکا ہے، جن میں 9,500 سے زیادہ مکانات کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
ان زلزلوں نے وینزویلا کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ورلڈ بینک کے ابتدائی جائزے کے مطابق 24 جون کے دونوں زلزلوں سے تقریباً 19.6 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان ہوا جبکہ ملک کی مکمل تعمیر نو کی لاگت اس رقم سے دوگنا یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے جائزوں کے مطابق زلزلوں سے 21 لاکھ ٹن سے زیادہ ملبہ پیدا ہوا جسے ہٹانا حکومت کے لیے ایک بہت بڑا لاجسٹک اور ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔
زلزلوں کے فوراً بعد مختلف ممالک نے وینزویلا کو امدادی اور ریسکیو ٹیمیں بھیجیں۔ بین الاقوامی ٹیموں نے مقامی اہلکاروں کے ساتھ مل کر منہدم عمارتوں میں زندہ افراد کی تلاش کی۔
زلزلوں کے فوراً بعد امریکی جیولوجیکل سروے کے ماڈل نے اندازہ لگایا تھا کہ ہلاکتیں ہزاروں میں پہنچ سکتی ہیں اور 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا بھی خاصا امکان موجود ہے۔