وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے توانائی کی منڈیوں کو لپیٹ میں لینے والی کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔
غیرملکی جریدے بلومبرگ کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف نے انٹرویو میں کہا کہ حالات ایک بار پھر امن معاہدے یا ڈیل کے حق میں سازگار ہو رہے ہیں اور پچھلے دو تین دنوں سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ہم کسی نہ کسی قسم کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کے باوجود پاکستان کے وزیر دفاع نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے قریب پہنچنے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
اسی طرح وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اہم دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی اعلیٰ حکام کے ساتھ امریکا کے ساتھ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر بات چیت کا امکان ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو معاہدے میں پیش رفت کا ذکر کیے بغیر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہم سختی سے گریز کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران معاشی لحاظ سے بہت خراب حالت میں ہے اور اس کے پاس فوج کو تنخواہ دینے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں اور امریکی بحری ناکا بندی نے ایرانی حکومت کے معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ تیل کی قیمت کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ رہنے کے باعث امریکی صارفین جنگ کے معاشی اثرات کو کسی حد تک کم محسوس کر رہے ہیں۔