اسلام آباد:
حکومت نے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، ان علاقوں میں خام مال منگوانے والی فیکٹریوں سے متعلق تحقیقات کے لیے اعلی سطح کمیٹی قائم کردی۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس چوری کے معاملے کیلئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تمام فیکٹریوں کی آڈٹ انکوائری فزیکل انسپکشن کے ذریعے کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں گریڈ 20 کے افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی کے دیگر ممبران میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹی ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال منگوانے والی فیکٹریوں کے بارے میں چھان بین کرے گی اور آڈٹ و فیزیکل انسپکشن میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس فیکٹری کی طرف سے کتنا ڈیوٹی و ٹیکس فری اور رعایتی ڈیوٹی و ٹیکسوں پر کتنا خام مال منگوایا اس سے کتنی پیداوار ہوئی اور پیداوار کا کتنا حصہ مقامی علاقے میں استعمال ہوا اور یہ کہ جو اشیاء تیار کی گئیں ان کی اس ٹیکس سے چھوٹ کے حامل علاقوں میں کتنی ضرورت تھی اور کتنی کھپت ہوئی۔
کمیٹی یہ بھی پتا لگائے گی کہ ان علاقوں میں پیدا ہونے والی اشیاء میں سے کتنی برآمد ہوئی ہیں اور اگر ڈیوٹی و ٹیکس فری یا رعایتی ڈیوٹی و ٹیکسوں کی سہولت کا غلط استعمال کرکے ٹیکس چوری کی گئی ہے تو اس کی کتنی مالیت ہے۔
کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور چوری شدہ ڈیوٹی و ٹیکسوں کی رقم جرمانے کے ساتھ ریکور کی جائے گی۔