عالمی عدالت کی بندش سے افغان خواتین کیلیے انصاف کا آخری دروازہ بند ہونے کا خدشہ

بین الاقوامی انصاف کا مقصد صرف ماضی کے جرائم کی سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل کے جرائم کوروکنا بھی ہے، ماہرین


ویب ڈیسک August 12, 2026

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے افغان خواتین کے لیے انصاف کا آخری دروازہ بھی بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

عالمی جریدے نےانٹرنیشنل کریمنل کورٹ بند ہونے سے طالبان رہنماؤں کو ان کے جرائم سے چھوٹ ملنے کے خطرے سے خبردار کردیا ہے۔

برطانوی جریدہ فنانشل ٹائمز کے مطابق اقتدارپرقبضے کے بعدعسکریت پسند گروہ  طالبان نے افغانستان میں دنیا کا بدترین اور انتہائی جنسی تعصب پر مبنی نظام قائم کیا  ہے۔ طالبان  رجیم کے افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق افغان  خواتین کوآزادانہ نقل و حرکت، ملازمت اور تعلیم کے  بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ افغان خواتین کے پاس انصاف کے راستے پہلے ہی انتہائی محدود ہیں اور اب یہی عالمی عدالت ان کی دادرس کا آخری ذریعہ رہ جاتی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے بعض طالبان رہنماوں کیخلاف خواتین اور لڑکیوں کیخلاف مبینہ جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری  کررکھے ہیں ۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے طالبان رہنماؤں اور نیتن یاہو جیسے مجرموں کو قانون سے بچنے کا موقع مل جائے گا ۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بین الاقوامی انصاف کامقصد صرف ماضی کے جرائم کی سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل کے جرائم کوروکنا بھی ہے۔ اگر طاقتور اورظالم  حکمرانوں کو یہ یقین ہو جائے کہ انہیں کبھی جوابدہ نہیں بنایا جائے گا تو جنگی جرائم، انسانیت کیخلاف جرائم اور نسل کشی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔