دنیا کے خوش ترین ممالک کون سے ہیں؟ خوشی ناپنے کے طریقے نے نتائج بدل دیے

ماہرین کے نزدیک خوشی کا تعلق صرف مسلسل مسکراتے رہنے یا ہر وقت خوشگوار کیفیت میں رہنے سے نہیں


ویب ڈیسک August 12, 2026
ہر حال میں مسکرانے والے افراد صحت کی خرابی کے باوجود دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتے ہیں، فوٹو:فائل

دنیا کا سب سے خوش ملک کون سا ہے؟ اس سوال کا جواب بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن مختلف عالمی سرویز کے نتائج نے واضح کردیا ہے کہ خوشی کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا ممکن نہیں۔ کسی سروے میں فن لینڈ مسلسل سرفہرست ہے، تو دوسرے میں انڈونیشیا نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مختلف ادارے خوشی کو مختلف زاویوں سے جانچتے ہیں۔

2026 ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق فن لینڈ ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویل بیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے حل کے نیٹ ورک کے اشتراک سے یہ رپورٹ جاری کی۔ فن لینڈ مسلسل نویں سال اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے۔

رپورٹ میں دنیا کے 147 ممالک کو شامل کیا گیا اور درجہ بندی 2023 سے 2025 کے دوران گیلپ ورلڈ پول میں لوگوں کی جانب سے اپنی زندگی کے بارے میں دی گئی رائے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس پیمانے پر فن لینڈ کے بعد آئس لینڈ، ڈنمارک اور کوسٹاریکا نمایاں رہے، جبکہ کوسٹاریکا کا چوتھے نمبر پر آنا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ کسی لاطینی امریکی ملک کی اب تک کی بلند ترین پوزیشن ہے۔

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق 2026 میں خوش ترین ممالک میں فن لینڈ، آئس لینڈ، ڈنمارک، کوسٹاریکا، سویڈن، ناروے، نیدرلینڈز، اسرائیل، لکسمبرگ، سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ، میکسیکو، آئرلینڈ اور بیلجیئم شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹاپ 20 ممالک کے اسکور میں ایک پوائنٹ سے بھی کم فرق ہے، اس لیے درجہ بندی میں چند معمولی تبدیلیاں بھی کسی ملک کی پوزیشن میں نمایاں فرق پیدا کرسکتی ہیں۔

فن لینڈ کی مسلسل برتری کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کے لوگ ہر وقت سب سے زیادہ خوش یا مسکراتے رہتے ہیں۔ اس رپورٹ میں بنیادی طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ مجموعی طور پر اپنی زندگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے آمدنی کے ساتھ سماجی تعلقات، آزادی، صحت، خاندان اور زندگی کے بارے میں مجموعی اطمینان بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لیکن خوشی کی ایک دوسری تصویر آئیپسوس ہیپی نیس انڈیکس 2026 نے پیش کی ہے۔ مارچ میں جاری کیے گئے اس سروے میں 29 ممالک کے 23 ہزار 268 افراد سے رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 85 فیصد انڈونیشین شہریوں نے خود کو خوش قرار دیا، جس کے بعد نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اس سروے میں 29 ممالک کا اوسط 74 فیصد رہا۔

آئیپسوس کی فہرست میں انڈونیشیا پہلے، نیدرلینڈز اور میکسیکو 84 فیصد کے ساتھ دوسرے، کولمبیا 83 فیصد کے ساتھ تیسرے اور ملائیشیا و تھائی لینڈ 81 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔ برازیل 80 فیصد، آسٹریلیا 78 فیصد، اسپین اور بیلجیئم 77 فیصد، آئرلینڈ 76 فیصد جبکہ چلی، جنوبی افریقہ اور فرانس 75 فیصد کے ساتھ فہرست میں شامل ہیں۔ سویڈن 74 فیصد، پولینڈ اور پیرو 73 فیصد، کینیڈا 73 فیصد، سنگاپور 73 فیصد اور امریکا بھی 73 فیصد پر رہا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انڈونیشیا کے 85 فیصد افراد خود کو خوش سمجھتے ہیں تو وہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ میں فن لینڈ سے آگے کیوں نہیں؟ اس کی وجہ دونوں سرویز کے سوالات کا مختلف ہونا ہے۔ آئیپسوس لوگوں سے براہ راست پوچھتا ہے کہ وہ خود کو خوش محسوس کرتے ہیں یا نہیں، جبکہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ لوگوں سے اپنی پوری زندگی کا مجموعی جائزہ لینے کو کہتی ہے۔

اسی فرق کو سمجھنے کے لیے گیلپ کی گلوبل ایموشنز ریسرچ بھی اہم ہے۔ اس تحقیق میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں نے گزشتہ روز کن جذبات کا تجربہ کیا۔ اس میں خوشی، اچھی طرح آرام محسوس کرنا، مسکرانا یا ہنسنا، عزت کے ساتھ برتاؤ اور کوئی دلچسپ چیز سیکھنے جیسے مثبت تجربات شامل ہیں، جبکہ پریشانی، ذہنی دباؤ، اداسی، غصہ اور جسمانی تکلیف جیسے منفی احساسات بھی ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

یوں ایک شخص اپنی زندگی سے مجموعی طور پر مطمئن ہوسکتا ہے لیکن اس کا گزشتہ دن انتہائی تھکا دینے والا اور پریشان کن گزرا ہو۔ اسی طرح کوئی شخص ایک دن بہت خوشگوار گزار سکتا ہے، مگر مجموعی زندگی کے بارے میں اس کی رائے اتنی مثبت نہ ہو۔

آئیپسوس کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ خوشی کے احساس میں محبت اور قدر کیے جانے کا احساس سب سے نمایاں عوامل میں شامل ہے، جس کے بعد خاندان اور بچوں سے تعلقات آتے ہیں۔ دوسری جانب مالی حالات لوگوں میں ناخوشی کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل رہے۔

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ میں خوشی جانچنے کے لیے جس بنیادی پیمانے کو استعمال کیا جاتا ہے اسے کینٹرل لیڈر کہا جاتا ہے۔ اس میں لوگوں کے سامنے صفر سے 10 تک ایک سیڑھی تصور کی جاتی ہے۔ صفر ان کی نظر میں ممکنہ بدترین زندگی جبکہ 10 بہترین ممکنہ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، اور افراد سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس وقت اس سیڑھی کے کس درجے پر کھڑے ہیں۔

رپورٹ میں آمدنی، سماجی معاونت، صحت مند زندگی کی متوقع مدت، اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی، سخاوت اور بدعنوانی کے بارے میں تصورات جیسے عوامل کو یہ سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ مختلف ممالک میں زندگی کے جائزے کیوں مختلف ہیں، تاہم یہ عوامل براہ راست درجہ بندی کا فارمولا نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2010 کے عرصے کے مقابلے میں 79 ممالک میں لوگوں کے زندگی سے اطمینان میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں وسطی اور مشرقی یورپ کی ترقی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

تینوں عالمی جائزوں کے نتائج کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دنیا کا خوش ترین ملک دراصل اس بات پر بھی منحصر ہے کہ سوال کیا پوچھا گیا۔ اگر لوگوں سے اپنی زندگی کو مجموعی طور پر جانچنے کا کہا جائے تو فن لینڈ دنیا میں سب سے آگے ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ آپ خود کو کتنا خوش محسوس کرتے ہیں تو انڈونیشیا سرفہرست آتا ہے، جبکہ گزشتہ روز کے جذبات اور تجربات کو پیمانہ بنایا جائے تو تصویر ایک بار پھر بدل جاتی ہے۔

ماہرین کے نزدیک خوشی کا تعلق صرف مسلسل مسکراتے رہنے یا ہر وقت خوشگوار کیفیت میں رہنے سے نہیں۔ مجموعی طور پر بہتر زندگی کا احساس، مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگ، مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات اور اپنی زندگی کے بارے میں بامعنی فیصلے کرنے کی آزادی بھی انسانی خوش حالی کا اہم حصہ ہیں۔

اسی لیے فن لینڈ کی مسلسل نو سالہ حکمرانی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہاں کے لوگ دنیا کے ہر دوسرے ملک کے شہریوں سے زیادہ مسکراتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب لوگوں سے اپنی پوری زندگی پر نظر ڈال کر اس کا جائزہ لینے کو کہا جاتا ہے تو فن لینڈ کے شہری مسلسل دنیا کے بلند ترین اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔

تحریر کردہ
ویب ڈیسک
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔