لاہور؛ تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی، پولیس افسر کا پولی گرافک ٹیسٹ کا فیصلہ

کیس کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں اور قانون کے مطابق قصور وار کو سزا دی جائے گی، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا


سید مشرف شاہ August 12, 2026
فوٹو: فائل

لاہور پولیس نے تھانے میں لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے پر زیر حراست  اے ایس آئی کے بیان کی روشنی میں پولی گرافک ٹیسٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ابہام ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر انویسٹی گیشن پولیس کے  اے ایس آئی عمران کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ متاثرہ لڑکی کا سائیکاٹری ٹیسٹ بھی کروالیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے سائیکاٹری ٹیسٹ کی رپورٹ 18اگست کو موصول ہو گی جبکہ اے ایس آئی عمران کا کہنا ہے کہ لڑکی کو گداگری سے روکنے کے لیے تھانے لے کر آیا تھا اور اس سے زیادتی نہیں کی بلکہ کمرے میں کھانا کھلایا اور سمجھا کر واپس بھیج دیا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ لڑکی سے زیادتی کے حوالے سے چیزوں میں ابہام ہے، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی رپورٹ میں تمام چیزیں سامنے آجائیں گی۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے کہا کہ کیس کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں اور قانون کے مطابق قصور وار کو سزا دی جائے گی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے اور بھی ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

خیال رہے کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا کی ہدایت پر انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد انسپکٹر ناصر حمید، انچارج جینڈر سیل انسپکٹر فاطمہ اور تفتیشی افسر فریال ہائی پروف کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔