ایرانی عدالت نے معروف فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو اسرائیل اور امریکا کے مفادات میں سرگرمیوں کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون صحافی پر ملک سے غداری کا مقدمہ ایران کے 2025 میں نافذ کیے گئے جاسوسی سے متعلق قانون کے تحت چلایا گیا جسے ایرانی حکام دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون کے خلاف قانون قرار دیتے ہیں۔
الزامات میں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز دینے اور امریکا و اسرائیل سے منسلک اداروں کو تصاویر فراہم کرنے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
خاتون فوٹو جرنلسٹ پر یہ الزام بھی تھا کہ انھوں نے اپنی صحافتی سرگرمیوں اور آن لائن شائع کیے گئے مواد کے ذریعے صہیونی حکومت اور امریکا کے مفادات میں کام کیا۔
تاہم رائٹرز نے عدالتی دستاویزات کے مندرجات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہونے کی وضاحت کی ہے۔
ایرانی عدالت نے یلدا معیری کو ان کی غیر موجودگی میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے جب کہ سزا کے خلاف اپیل کے لیے ملزمہ کو 10 دن کا وقت بھی دیا گیا ہے۔
عدالت نے 15 سال قید کے علاوہ ان کے کیمروں، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
فیصلے کے تحت یلدا معیری کو ثقافتی اور میڈیا سرگرمیوں میں حصہ لینے، سرکاری عہدہ رکھنے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
دوسری جانب یلدا معیری کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت میں اس لیے شریک نہیں ہو سکیں کیونکہ انہیں سماعت کی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
ان کے بقول جب وہ تہران کی انقلابی عدالت پہنچیں تو انہیں مقدمے کی مکمل دستاویزات بھی فراہم نہیں کی گئیں اور ان کے ایک ساتھی نے چارج شیٹ کی تفصیلات ہاتھ سے نقل کیں۔
خاتون فوٹو جرنلسٹ نے بتایا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے رواں سال فروری میں تہران میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر موبائل فون، لیپ ٹاپ، کیمرے اور دیگر آلات قبضے میں لے لیے تھے۔
صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 3 فروری کو پاسداران انقلاب سے وابستہ اہلکاروں نے ان کے گھر کی تلاشی لی اور ان کے ذاتی الیکٹرانک آلات ضبط کیے تھے۔
فرانسیسی اخبار لی مونڈ کے مطابق یلدا معیری نے تہران میں ہونے والے احتجاج اور حکومتی کریک ڈاؤن کی تصاویر بھی بنائی تھیں۔
اخبار نے رپورٹ کیا کہ فروری میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران ان کا فوٹوگرافی کا سامان، کمپیوٹر اور موبائل فون قبضے میں لے لیے گئے تھے۔
یلدا معیری اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی کارروائی کا سامنا کر چکی ہیں۔ انہیں 19 ستمبر 2022 کو تہران میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج کی کوریج کر رہی تھیں۔
مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج نے ایران میں ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ تحریک کو جنم دیا تھا۔ یلدا معیری کو دسمبر 2022 میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔