ایران نے عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کا عمل تیز کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے بتایا کہ برکس رکن ممالک کے درمیان تعاون کا سب سے اہم نتیجہ نیو ڈیولپمنٹ بینک کا قیام ہے اور ایران جلد اس بینک کا رکن بن جائے گا۔
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے مزید بتایا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت قومی کرنسیوں میں کی جاسکتی ہے۔ جس سے ڈالرز کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران برکس کے دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور سہ فریقی مالیاتی تعاون کے امکانات پر کام کررہا ہے۔
عبدالناصر ہمتی نے یہ انکشافات اُس وقت کیا جب وہ ان دنوں بھارت میں برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں شریک ہیں۔
خیال رہے کہ ایران پہلے ہی امریکا اور دیگر ممالک کی سخت اقتصادی و مالی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایسے حالات میں برسوں سے ایسے مالیاتی اور تجارتی راستوں کی تلاش میں ہے جو امریکی مالیاتی نظام اور ڈالر پر اس کا انحصار کم کرسکیں۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ امریکی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع نے ایران کے لیے ڈالر سے باہر متبادل مالیاتی ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھی جارہی ہے۔
برکس بینک کیا ہے؟
نیو ڈیولپمنٹ بینک، جسے عام طور پر برکس بینک بھی کہا جاتا ہے، برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ نے 2015 میں قائم کیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک میں انفرااسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
وقت کے ساتھ بینک نے اپنے دائرۂ کار کو وسیع کیا اور متحدہ عرب امارات، مصر سمیت دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس میں شامل ہوئیں۔ 2025 میں کولمبیا اور ازبکستان کی رکنیت کی منظوری دی گئی، جبکہ ازبکستان نے جون 2026 میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی۔
بینک کی موجودہ حکمت عملی میں مقامی کرنسیوں میں قرض اور مالی معاونت کو بھی اہمیت حاصل ہے، جس سے رکن ممالک کو شرح مبادلہ کے خطرات کم کرنے اور امریکی ڈالر پر انحصار محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایران کا برکس کے نئے بینک میں شمولیت تک کا سفر
ایران 2024 میں برکس کا مکمل رکن بنا تھا۔ اس کے بعد سے نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہوا ہے۔
جون 2025 میں اس وقت کے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر محمد رضا فرزین نے نیو ڈیولپمنٹ بینک کی صدر دلما روسیف سے ملاقات میں بھی ایران کی بینک میں شمولیت کی خواہش کا اعادہ کیا تھا۔
مئی 2026 میں روس نے بھی ایران کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں رکنیت کی حمایت کی تھی۔
روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف نے ایران کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ماسکو ایران کی رکنیت سمیت اس کے برکس سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے دیگر رکن ممالک سے مشاورت کرے گا۔
ایران کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
اگر ایران نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جاتا ہے تو اسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک اضافی کثیر ملکی مالیاتی پلیٹ فارم دستیاب ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران برکس ممالک کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کرسکتا ہے۔
ایران کے لیے اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث عالمی بینکاری اور ڈالر پر مبنی لین دین میں اسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
قومی کرنسیوں میں تجارت اور متبادل ادائیگی کے نظام ان پابندیوں کے اثرات کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کرسکتے، تاہم تہران کے لیے مالیاتی راستوں میں تنوع پیدا کرسکتے ہیں۔
کارنیگی انڈومنٹ کے مطابق نیو ڈیولپمنٹ بینک اس وقت تقریباً 100 ارب ڈالر کے سرمائے کے ساتھ کام کررہا ہے اور مقامی کرنسیوں میں مالی معاونت فراہم کرنا اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔
برکس میں ڈالر کا غلبہ کم کی کوششیں
برکس ممالک کے اندر گزشتہ برسوں کے دوران عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کے غلبے کو کم کرنے کے لیے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور ادائیگیوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
تاہم برکس کے اندر اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں۔ بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے رواں ماہ کہا تھا کہ بھارت کسی نئی مشترکہ برکس کرنسی کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برکس ممالک ڈالر پر انحصار کم کرنے کے مقصد پر بات تو کرتے ہیں، لیکن اس کے طریقہ کار پر ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
ایران کے لیے تاہم موجودہ حالات میں یہ معاملہ زیادہ اہم ہے۔ تہران ایک طرف پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری جانب روس، چین، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارت اور مالی تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کررہا ہے۔