جشن آزادی، قومی عہد اور آبی خودمختاری

اس بار جشن آزادی کا جذبہ گزشتہ برس کے دفاعی معرکے کی یاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔


ایڈیٹوریل August 15, 2026

آزادی کی تاریخیں صرف کیلنڈر پر نہیں آتیں، وہ قوموں کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں۔ ہر سال 14 اگست ہمیں ایک ایسے سفر کی یاد دلاتا ہے جس کی بنیاد خواب، قربانی اور عزم پر رکھی گئی تھی، مگر ہر گزرتا برس ایک نیا سوال بھی سامنے رکھتا ہے۔ کیا ہم اس امانت کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں جو ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں ملی؟ پاکستان کا 79واں جشن آزادی اسی سوال کے ساتھ منایا گیا ہے۔ پرچموں کی بہار، چراغاں، ملی نغموں اور تقریبات سے بڑھ کر اس دن کی اصل روح یہ ہے کہ قوم اپنے ماضی کو سلام پیش کرتے ہوئے مستقبل کے لیے اپنے فرائض کا تعین کرے۔ آزادی کسی ایک دن کا جشن نہیں، مسلسل ذمے داری کا نام ہے۔

اس بار جشن آزادی کا جذبہ گزشتہ برس کے دفاعی معرکے کی یاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یادگارِ فتح کا افتتاح اسی قومی احساس کی علامت ہے کہ جب قوم، ریاست اور مسلح افواج ایک مشترک مقصد پر متحد ہوں تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی شکست کھا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ یہی ایک ذمے دار ریاست کا متوازن موقف ہے۔ مضبوط دفاع کا مقصد جنگ مسلط کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ امن کی خواہش اسی وقت باوقار بنتی ہے جب اس کے پیچھے اپنے دفاع، خودمختاری اور قومی مفاد کے تحفظ کی حقیقی صلاحیت موجود ہو۔

 تاہم عسکری کامیابی کا اصل امتحان میدانِ جنگ کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی طاقت اس کی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس کی معاشی قوت، علمی استعداد، ادارہ جاتی استحکام اور اجتماعی کردار سے بھی متعین ہوتی ہے، اگر جنگ کے دنوں میں اتحاد پیدا ہو سکتا ہے تو امن کے دنوں میں یہی اتحاد تعمیر و ترقی کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوسکتا؟ گزشتہ برس کے قومی تجربے کو مستقل طاقت میں تبدیل کرنے کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دفاع وطن کے ساتھ تعمیر وطن کو بھی قومی ترجیح بنائیں۔ وطن کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط فوج ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، جدید صنعت، انصاف کی فراہمی، صحت عامہ اور باصلاحیت انسانی وسائل بھی قومی سلامتی ہی کے مختلف پہلو ہیں۔

 اسی وسیع تر سلامتی میں پانی کا مسئلہ سب سے حساس حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، دراصل ملک کے مستقبل کی ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں، پاکستان کے لیے یہ خوراک، روزگار، توانائی، صنعت، ماحول اور قومی بقا کا معاملہ ہے۔ ہماری زراعت دریائی نظام سے وابستہ ہے، لاکھوں خاندانوں کا روزگار پانی کی دستیابی سے جڑا ہے اور آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث اس کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں دریاؤں کے بہاؤ کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش براہِ راست پاکستانی عوام کے مفادات کو متاثر کرسکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ اسی لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے دو روایتی حریف ممالک کے درمیان پانی جیسے انتہائی نازک مسئلے کے لیے ایک قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کیا۔ عالمی بینک کا اس معاہدے کی تشکیل میں کردار بھی اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یہ محض دو ملکوں کا عارضی انتظام نہیں بلکہ بین الاقوامی ضمانت اور قانون کی پاسداری سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اگر کوئی فریق یک طرفہ طور پر معاہدے کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق معطل یا غیر موثر کرنے کی کوشش کرے تو سوال صرف پاکستان کے پانی کا نہیں رہتا، یہ بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت اور عالمی قانون کی ساکھ کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔

بھارت کی جانب سے آبی دباؤ کے امکانات کو پاکستان کو نہ تو نظرانداز کرنا چاہیے اور نہ جذباتی ردعمل تک محدود رہنا چاہیے۔ پانی کے مسئلے کا موثر دفاع قانونی، سفارتی، فنی اور داخلی، چاروں محاذوں پر بیک وقت کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی فورمز پر سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور حقوق کے بارے میں مضبوط مقدمہ پیش کرنا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ملک کے اندر پانی کے استعمال کا پورا نظام بھی درست کرنا ہوگا۔ اگر پانی ہماری ریڈ لائن ہے تو اس کا ضیاع بھی قومی مسئلہ ہونا چاہیے۔ فرسودہ آبپاشی، بارش کے پانی کا ضیاع، زیر زمین ذخائر کا بے تحاشا استعمال، شہری علاقوں میں ناقص منصوبہ بندی اور ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ایسی کمزوریاں ہیں جنھیں محض بیرونی خطرے کا حوالہ دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

 پاکستان کو آبی سلامتی کی ایک جامع قومی پالیسی درکار ہے۔ نئے ذخائر، جدید آبپاشی، پانی کی ری سائیکلنگ، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے، زیر زمین پانی کی نگرانی، فصلوں کے انتخاب میں سائنسی اصول اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہیں۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی باہمی اعتماد اور شفاف اعدادوشمار کی بنیاد پر حل ہونا چاہیے۔ جس ملک میں پانی کی ہر بوند قیمتی ہو، وہاں اسے سیاسی تنازع کے بجائے قومی امانت سمجھنا ہوگا۔ بیرونی دباؤ کا مقابلہ تب ہی موثر ہوگا جب اندرونی انتظام بھی مضبوط ہو۔

یہی اصول معیشت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جشن آزادی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان خود انحصاری کی سمت بڑھے۔ قرضوں، درآمدی انحصار اور محدود برآمدی بنیاد پر کھڑی معیشت دیرپا قومی خودمختاری کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور نئی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم نے بھی آئی ٹی اور اے آئی کو نئی دنیا کی حقیقت قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ شعبہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی انقلاب کا امکان ہے۔

ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے، مگر آبادی خود بخود سرمایہ نہیں بنتی، اسے تعلیم، ہنر، مواقع اور درست سمت درکار ہوتی ہے۔ جامعات میں تحقیق کا معیار بلند کرنا، اسکولوں میں بنیادی تعلیم مضبوط کرنا، نوجوانوں کو ڈیجیٹل ہنر دینا، مصنوعی ذہانت اور سائنس کے میدان میں سرمایہ کاری بڑھانا اور نجی شعبے کو نئی صنعتیں قائم کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے، اگر پاکستانی نوجوان دنیا کے لیے سافٹ ویئر، تحقیق، خدمات اور نئی مصنوعات تیار کریں تو ملک کی معاشی سمت تبدیل ہوسکتی ہے، یوں آزادی کا مفہوم سیاسی خودمختاری سے بڑھ کر معاشی اور علمی خودمختاری تک پہنچے گا۔

اسی قومی شعور کی ضرورت خارجہ پالیسی میں بھی ہے۔ چین کے ساتھ دیرینہ دوستی، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت برادر ممالک کے ساتھ قریبی روابط، ایران، قطر، کویت، آذربائیجان اور دیگر ممالک سے تعلقات پاکستان کے لیے اہم سفارتی اثاثے ہیں۔ امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی باوقار اور متوازن تعلقات قومی مفاد میں ہیں، تاہم خارجہ پالیسی کی اصل بنیاد جذبات نہیں بلکہ قومی مفاد، خودمختاری اور باہمی احترام ہونا چاہیے۔ دوستیاں مضبوط ہوں مگر پاکستان کے فیصلوں کا مرکز پاکستان ہی رہے۔ معاشی طاقت جتنی بڑھے گی، سفارتی آزادی بھی اتنی وسیع ہوگی۔

پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور تنازعات کا حل مذاکرات، انصاف اور عالمی اصولوں کے مطابق چاہتا ہے۔ یہی موقف اسے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر مضبوط کرسکتا ہے، مگر امن کی بات کرنے کے لیے داخلی استحکام بھی ضروری ہے، جو ملک اپنے شہریوں کو انصاف، معاشی مواقع، تعلیم اور تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کی عالمی آواز زیادہ معتبر ہوتی ہے۔ اس لیے قومی سلامتی کو محض سرحدی تصور تک محدود کرنا درست نہیں۔ غربت، بے روزگاری، جہالت، پانی کی کمی، توانائی کا بحران اور معاشی کمزوری بھی ایسے خطرات ہیں جو ریاست کی بنیادوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

یادگارِ فتح شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کی علامت ہے، مگر اس سے بڑی یادگار ایک ایسا پاکستان ہوگا جہاں ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کرسکے، نوجوان کو باعزت روزگار ملے، کسان کو پانی میسر ہو، صنعت کو ترقی کا موقع ملے اور شہری کو قانون کے یکساں تحفظ کا یقین ہو۔ گزشتہ برس کی دفاعی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا اہم باب ہے، لیکن آنے والی نسلیں ہم سے اس سے بڑی کامیابی چاہیں گی، ایک ایسا پاکستان جو معاشی طور پر مضبوط، علمی طور پر بااختیار، پانی کے اعتبار سے محفوظ، سیاسی طور پر مستحکم اور عالمی سطح پر باوقار ہو۔ جشن آزادی کا حقیقی تقاضا ہے کہ قربانیوں کو محض یاد نہ کیا جائے بلکہ ان سے مستقبل کا راستہ روشن کیا جائے۔ پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی، اب اسے ترقی، خود انحصاری، علم اور خوش حالی کی آزادی حاصل کرنی ہے۔ یہ سفر کسی ایک ادارے یا حکومت کا نہیں، پوری قوم کا ہے اور اس کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب جشن کا جذبہ سال بھر کے کردار میں تبدیل ہوجائے۔