پاکستان دنیا میں ابھرتی ہوئی 'ہنچ پاور' کے طور پر سامنے آرہا ہے، برطانوی اخبار

پاکستان کی خارجہ حکمت عملی اسے بیک وقت امریکا، چین، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں تزویراتی گنجائش فراہم کررہی ہے، رپورٹ


ویب ڈیسک August 14, 2026
فوٹو: فائل

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی ’ہنج پاور‘ کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور اسلام آباد امریکا، چین، خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ بیک وقت روابط کو تزویراتی قوت میں بدل رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرکے اپنی سفارتی اہمیت کا واضح اشارہ دیا اور پاکستان بدلتے ہوئے عالمی نظام میں زیادہ فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی سلامتی کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے او پاکستان کی بڑی تزویراتی قوت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ مفادات پر مبنی شراکت داری رکھ سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق پاکستان خلیجی ریاستوں اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے اور کسی ایک عالمی کیمپ تک محدود ہوئے بغیر مختلف طاقت کے مراکز کے ساتھ کام کرنے والی اہم درمیانی طاقت بن رہا ہے۔

پاکستان کے معاشی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کرپٹو اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تجارتی امکانات پاکستان کی نئی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہیں، اسی طرح وسط ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے ملانے کا منصوبہ نئی منڈیوں اور علاقائی تجارت کے دروازے کھول سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے کہا کہ سعودی عرب کی پشت پناہی پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کا اہم سہارا بن سکتی ہے اور پاکستان اپنے جغرافیائی گردونواح کی حدود سے نکل کر وسیع تر عالمی کردار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

خارجہ پالیسی سے متعلق کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ حکمت عملی اسے بیک وقت امریکا، چین، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں تزویراتی گنجائش فراہم کر رہی ہے، اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی پاکستان کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم رابطہ کار ریاست بنا رہی ہے۔

برطانوی اخبار نے رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ نئی عالمی بساط میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ اسے عالمی ’رسک بورڈ‘ پر الگ مقام ملنا چاہیے۔