الفاظ کی پکار

کتاب انسان کی تنہائی کی ساتھی اور بہترین دوست سمجھی جاتی ہے



لفظ ’’مطالعہ‘‘ کو چند سال قبل تک عادت اور شوق کے طور پر انسان کا اپنی زندگی میں شامل رکھنا اُس کے باذوق اور ذی شعور ہونے کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ کتابیں پڑھنا اور اُن کو پڑھتے پڑھتے محو ہو کر اپنے ارد گرد کو فراموش کر دینا ،ایک عام سی بات سمجھی جاتی تھی۔ اکثر و بیشتر مواقعوں پر دوست و احباب اپنے پسندیدہ مصنّفین کی تصانیف کے موضوعات، اُن کے اسلوب اور اُن میں پنہاں فلسفیانہ سوچ پر گھنٹوں گھنٹوں تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔ انسان کے لیے اُس کی کتابوں کا ذخیرہ سونے، چاندی، ہیرے جواہرات کے ذخائر اور اس دنیا کی کسی بھی قیمتی شے سے زیادہ اہم اور خاص ہوا کرتا تھا۔

اس دنیا کے جدید معاشروں کی نئی نسل مطالعے سے کوسوں دور ہے، کتابیں پڑھنے سے زیادہ دلچسپی انھیں سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر سرفنگ کرنے میں ہے۔ کتاب کو ہاتھ میں پکڑنے، اُس کے صفحات کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے محسوس کرنے اور اُن صفحات پر لکھے الفاظ کو اپنی روح میں اُتارنے کا جو مزا اور نشہ ہے، اُس سے آج، کل کے بچے اور بڑے بالکل ناواقف ہیں۔ کتاب انسان کو بہت کچھ ایسا بتلاتی اور سکھلاتی ہے جو زندگی گزرانے میں اُس کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے لیکن جب سے انسان نے کتاب کو اپنی زندگی سے علیحدہ کیا ہے وہ جینے کا صحیح ڈھنگ بھول بیٹھا ہے۔

کتاب انسان کی تنہائی کی ساتھی اور بہترین دوست سمجھی جاتی ہے۔ کتاب انسان کو ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جینے کا لطف اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ کتاب کے صفحوں پر بولتی لکیروں کی صورت میں موجود مختلف احساسات قاری کو اس طرح مصنف کی جانب سے متعارف کروائے جاتے ہیں کہ وہ اُن کو محسوس کرتے ہوئے انسانی کیفیات کی انگنت اشکال پر دنگ رہ جاتا ہے۔ مطالعہ انسان کی سوچ کو وسیع کرتا ہے، شخصیت سازی میں مدد دیتا ہے۔ مطالعے کی عادت رکھنے والا انسان اور سرے سے مطالعہ نہ کرنے والا انسان اپنی گفتار سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں۔

مطالعہ انسان کو نت نئے الفاظ سے پہچان کرواتا ہے اور اُن کے تلفظ ساتھ ادائیگی کے حوالے سے رہنمائی کرتا ہے، اگر کوئی انسان بے ذوق یا جاہل ہو تو اُسے کتاب میں موجود الفاظ محض آڑھی ترچھی لکیریں ہی معلوم ہونگے ۔اس کے برعکس علم کے حصول کے شوقین افراد کو وہی الفاظ خاص اُن کو پکارتی اور اپنی جانب متوجہ کرتی لکیروں کے مجموعہ کے طور پر نظر آئیں گے۔ الفاظ کا صحیح چناؤ انسان کی بات کا وزن بڑھاتا اور اُس کے ادا کیے گئے جملوں میں جان پیدا کرتا ہے، ضروری نہیں ہر سنا اور پڑھا جانے والا لفظ عام بول چال میں استعمال کیا جائے، مطالعہ دراصل انسان میں یہی تمیز پیدا کرتا ہے۔

یہ کوئی زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں ہے کہ لوگوں کے گھروں میں عام طور پر مطالعہ کرنے کا ایک خصوصی کمرہ ہوا کرتا تھا جہاں مختلف موضوعات پر اُن کی پسندیدہ ادبی کتابوں کا ذخیرہ موجود ہوتا تھا، اُس کمرے کو اسٹڈی کہا جاتا تھا۔ اسٹڈی اہل ِ علم خواتین و حضرات کے مسکن کا جھومر تصور کی جاتی تھی مگر پھر وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما اور اُس علیحدہ کمرے کی جگہ کتابوں سے لدے گھر کے کسی کونے میں رکھے چند شلیفز نے لے لی۔ اب آہستہ آہستہ وہ شلیفز بھی مختصر سے مختصر ہوتے ہوئے لوگوں کے گھروں اور زندگیوں سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔

اخبار جسے روزنامہ بھی کہتے ہیں، مطالعہ کا بہترین اور سستا ذریعہ مانا جاتا تھا مگر انٹرنیٹ کی آمد نے اُسے لوگوں کی زندگیوں سے اس طرح دور کر دیا ہے کہ اب دو جمع دو کرنے والے افراد اخبار پر پیسے اور وقت ضایع کرنے کے بجائے انٹرنیٹ پر خبروں کی سچائی جانچنے کی محنت سے اپنا دامن بچاتے ہوئے جھوٹ کی پنّی میں لپٹی باتوں پر باآسانی یقین کر لیتے ہیں۔

قومی یا مقامی زبانوں میں جاری اخبار کچھ وقت پہلے تک تقریباً ہر مسکن و مکان میں روزانہ صبح آیا کرتے تھے۔ دن کی شروعات ایک ہاتھ میں چائے اور دوسرے میں اخبار کی موجودگی سے ہوا کرتی تھی، صبح اخبار پڑھے بِنا صاحب مکان کا روزگار کی غرض سے گھر کی دہلیز پار کرنا گناہ کے زمرے میں آتا تھا۔

ایک یا ایک سے زائد روزناموں کے ساتھ ساتھ ہمارے دیسی معاشرے کے ہر دوسرے گھر میں ہفت روزہ اور ماہنامہ بچوں، بڑوں کے رسالے بھی آیا کرتے تھے۔ جن گھروں میں مطالعہ وہاں کے مکینوں کے روٹین کا حصہ ہوا کرتا تھا ۔

اُدھر اخبارات وجرائد کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا تھا، اِدھر اخبار والا اُن کا پسندیدہ رسالہ گھر میں ڈال کر گیا اُدھر افرادِ خانہ میں پہلے کون پڑھے گا، کی دوڑ لگ جاتی تھی۔ وہ کتنے حسین دن تھے جب زندگی دھیمے قدم چل رہی تھی، لوگ دن میں قیلولہ اور رات میں سونے سے قبل کسی کتاب یا رسالے کے دو صفحے پڑھنا لازم گردانتے تھے۔

موجودہ دور بہت سارے حوالوں سے نہ صرف ماضی سے مختلف ہے بلکہ سکون کے لمحات سے عاری بھی ہے۔ سردی کی خاموش لمبی راتوں میں لحاف اوڑھ کر کتاب پڑھتے ہوئے گرما گرم بھاپ اُڑاتی چائے، کافی پینے یا مونگ پھلی کھانے میں جو لطف آتا تھا اُس سے نئی نسل بالکل انجان ہے۔

گرمی کے دنوں میں گھر کے صحن یا چھت پر کھلے آسمان کے نیچے چارپائی پر لیٹ کر پر اسرار اور جاسوسی ناولوں میں گم ہونا کتنا مزا دیتا تھا وہ جنریشن ’’زی‘‘اور ’’ایلفا‘‘ کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کتابیں اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اُن کے ناز نخرے اُٹھانے والے مسلسل کم ہو رہے ہیں، کتابوں میں موجود الفاظ چیخ چیخ کر اپنے قارئین کو پکار رہے ہیں مگر افسوس یہاں اکثریت کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے۔