میرے درد کی ٹیسوں نے مجھے جھنجھوڑ دیا ہے، وہ میرے غم کو پچھاڑ کر مجھے غمگین کر رہی ہیں۔
میرے من کو ایک ایسے نوجوان نسل کے بیٹے کے دکھ میں مضطرب کر گئی ہیں کہ جس کو بیان کرنے کی تاب سے میں خود کو اب تک سنبھال نہیں پا رہا ہوں،یہ این ایس ایف لاہور کا نظریاتی نوجوان احمد خان ندیم ہے جو اپنی آنکھوں میں اعلیٰ مگر سماجی دکھ درد ختم کرنے کے خواب سجائے کسی نہ کسی طرح ٹورنٹو پہنچ گیا مگر ٹورنٹو میں اپنی پی ایچ ڈی یا سماجیات سمجھنے کے سوشلسٹ نظریے کی تلاش میں اب تک غیر مطمئن سا ہے۔
سو کیوں نا پہلے احمد خان ندیم کے اس سماجی سدھارک کے خواب کی تکالیف کو سمجھ لیا جائے۔ ندیم کا سادہ مگر جگر چیر نے اور بے حسی رگوں کو جگانے والا موقف رکھ دیا جائے تو بہتر ہے جس میں یہ نظریاتی نوجوان سماج سے والدین سے،اعلی تعلیم کے خواہشمند نوجوانوں سے اور سرمایہ دارانہ چکر کے تعلیمی نظام کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ۔
’’کینیڈا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ ہوا تو میں پاکستان سے اپنے ساتھ بہت سی چیزیں لایا تھا۔ کتابیں، کچھ نظریات، کچھ خواب اور اپنے ملک کے محنت کش طبقے کے بارے میں ایک خاص قسم کا یقین بھی۔
یہاں آ کر معلوم ہوا کہ آدمی جتنا کچھ اپنے بارے میں جانتا ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ اپنے بارے میں غلط فہمیاں بھی ساتھ لاتا ہے۔ پاکستان میں بیٹھ کر مجھے لگتا تھا کہ علم کی بھی کوئی دنیا ہوگی ،جہاں آدمی سوال کرے گا، تحقیق کرے گا، دلیل دے گا اور اگر بات درست ہوئی تو مان بھی لی جائے گی۔
یہاں آ کر پتہ چلا کہ علم کی دنیا بھی بس صرف دنیا ہی ہے۔ یہاں بھی دروازے ہیں، شناختی کارڈ ہیں، زبان ہے، لباس ہے اور داخلے کے اپنے اصول ہیں۔ یہاں آ کر سمجھ میں آیا کہ علم خودبخود پیدا نہیں ہوتا، اس کی بھی ایک معیشت ہے، ایک سیاست ہے اور ایک طبقاتی زندگی ہے۔ کچھ سوال بڑے سوال ہوتے ہیں، کچھ چھوٹے۔
کچھ زبانیں علمی ہوتی ہیں، کچھ صرف زبانیں۔ اور تیسری دنیا سے آنے والا طالب علم؟وہ پہلے ہی دن سے دو امتحان دے رہا ہوتا ہے۔
ایک تحقیق کا۔دوسرا اس بات کا کہ تم اپنے ملک کی کہانی ہمیں ہماری زبان میں سنا سکتے ہو یا نہیں۔
پاکستان سے آنے والا طالب علم مزدور کو مزدور کہہ کر نہیں چھوڑ سکتا۔ اسے پہلے اسے ایک ’’لیبر سبجیکٹ‘‘ بنانا پڑتا ہے۔ کسان کو کسان کہنا کافی نہیں، اسے ’’کیس‘‘ بنانا پڑتا ہے۔ ریاست ریاست نہیں رہتی، ’’انسٹی ٹیوشن‘‘بن جاتی ہے۔
طبقاتی جدوجہد ایک ’’ریسرچ ٹاپک‘‘ ہو جاتی ہے اور انقلاب؟ انقلاب ایک اچھا سا ’’ڈسکورس‘‘ بن جاتا ہے۔مجھے اس پر کبھی کبھی ہنسی آتی ہے۔اس لیے نہیں کہ بات مزاحیہ ہے، بلکہ اس لیے کہ بعض اوقات آدمی کو رونے کے بجائے ہنسنا آسان لگتا ہے۔
میں ایک ایسے معاشرے سے آیا تھا جہاں طبقاتی استحصال کوئی نظریاتی اصطلاح نہیں۔ وہاں مزدور کی تنخواہ مہینے کے درمیانے حصے میں ہی ختم ہو جاتی ہے اور مالک کا منافع اگلے مہینے سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
وہاں کسان کے لیے زمین ایک فلسفیانہ سوال نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ وہاں ریاست کبھی اخبار میں نہیں آتی، سیدھی گھر کی دہلیز پر آتی ہے۔ وہاں سامراج کسی کتاب کا باب نہیں، معیشت کی سمت ہے۔
مگر یہاں پہنچ کر یہی چیزیں کاغذ پر آتی ہیں تو ان کا حلیہ بدل جاتا ہے۔مزدور، ڈیٹا بن جاتا ہے۔
کسان، کیس اسٹڈی۔ریاست، انسٹی ٹیوشن۔
استحصال، کانسیپٹ۔اور جدوجہد؟جدوجہد ایک فٹ نوٹ۔یہیں کہیں مجھے ماؤ یاد آیا۔آپ کو اکیڈمک بننا ہے تو فارمولا بہت سادہ ہے، عوام سے تجربہ لے لو۔ اسے تھیسس میں ڈال دو۔ تھیسس سے مقالہ نکالو۔ مقالے سے جریدے میں جگہ بناؤ۔جریدے سے سی وی مضبوط کرو۔سی وی سے نوکری حاصل کرو۔نوکری سے اپنا کیرئیر سیٹ کرو۔اور پھر؟
عوام وہیں رہ گئے جہاں سے تم نے آغاز کیا تھا۔تم آگے نکل گئے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے اصل خطرہ نظر آیا۔خطرہ یہ نہیں کہ ایک انقلابی مغربی سرمایہ دارانہ درسگاہ میں کیوں گیا۔ علم جہاں ہے، اسے وہاں سے حاصل کرنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ علم حاصل کرتے ہوئے آدمی کہیں یہ نہ بھول جائے کہ وہ علم کس کے لیے حاصل کر رہا ہے۔
پی ایچ ڈی کے دوران آدمی کے سامنے بہت سی چھوٹی چھوٹی خواہشیں اور منزلیں آتی ہیں۔ ایک اچھا سپروائزر، ایک اچھی کانفرنس، ایک اچھی پوزیشن، ایک اچھا سی وی۔ ان میں سے کوئی خواہش بری نہیں۔مگر مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب یہی چھوٹی خواہشیں مل کر آدمی سے اس کا بڑا سوال چھین لیتی ہیں۔پھر وہ طبقاتی استحصال پر تحقیق تو کرتا ہے، مگر طبقاتی استحصال ختم کرنے کا سوال اسے غیر علمی لگنے لگتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مغربی اکیڈمیاں بری ہے اور اسے پھینک دینا چاہیے، ایسا کرنا بھی ایک قسم کی سادگی ہوگی۔ یہاں علم کے بے شمار اوزار ہیں۔ طریقہ تحقیق ہے، نظریاتی مباحث ہیں، علمی روایتیں ہیں، ایسی کتابیں ہیں جن سے سیکھا جا سکتا ہے۔مگر اوزار اور مالک میں فرق ہوتا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ ایک انقلابی دانشور کی سب سے بڑی شکست یونیورسٹی میں فیل ہونا نہیں۔سب سے بڑی شکست یونیورسٹی میں کامیاب ہونا ہے، اور اس کامیابی کے بدلے اپنے سوال، اپنی طبقاتی وابستگی اور اپنے لوگوں سے تعلق کو گروی رکھ دینا ہے۔
کیونکہ ڈگری دیوار پر لٹک سکتی ہے۔مقالہ لائبریری میں محفوظ ہو سکتا ہے۔نام جریدے میں چھپ سکتا ہے۔مگر اگر آدمی ان سب کے بعد اپنے ہی لوگوں کے لیے اجنبی ہو جائے تو پھر اس نے علم حاصل نہیں کیا۔اس نے صرف ایک بہتر کرسی حاصل کی ہے۔
میں ابھی احمد خان کے اس خط کے درد سے خود کو نکال نہ پایا تھا کہ ہمارے ایک نوجوان ساتھی کامریڈ ’’خرم علی‘‘ نے یاد دلایا کہ احمد تو آپ کے گھر عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں مرتب کی جانے والی کتاب کے مواد کے لیے آچکا ہے جس کی مدد کے لیے آپ نے چند متحرک نظریاتی خواتین سے احمد کا تعارف کروایا تھا۔
کامریڈ خرم کی یادہانی پر مجھے وہ متحرک اور اپنے نظریے کی بقا رکھنے والا احمد خان یاد آگیا کہ جس میں ہمیشہ اس سماج کے لیے کچھ کرنے کی امنگ رہتی تھی اور شاید اسی بنا اس نے سوشلسٹ سماج کی آبیاری کے لیے اتنی نوجوانی میں چار کتب، تحریک مزاحمت اور عورت، عورت اور طبقاتی جدوجہد، کاروان ماؤ ازم اور ’’شیئر کامریڈ‘‘لکھ ڈالیں،جس میں احمد کے سماج بدلنے اور محکوم عوام کو اعلیٰ طبقاتی نظام سے چھٹکارہ دلانے کا عزم واضح نظر آتا ہے۔
میرے پسماندہ اور غیر جمہوری و طبقاتی سماج میں احمد خان ندیم کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے جو کہ اس خطے کی ’’نیہا بورا‘‘ ایسی استقامت والی نسل کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر چلیں اور مشترکہ طور پر خطے کی عوام کو لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کی سیاست سے نجات دلائیں۔