متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تین سال قبل جب آرمی چیف یہاں آئے تھے انہوں نے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی، محسن نقوی صاحب بڑے وزیر ہیں وہ بھی یہی بات کر رہے ہیں، ان کی باتوں کی تائید ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کی۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے بڑے تسلسل کے ساتھ پاکستان کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اقدامات کیے، طلبہ تنظیم سے جنم لینے والی تحریک کو انتخابی سیاست میں آنے کا موقع ملا۔ پاکستان کے ایوان قانون سازی کے لیے بنائے گئے ہیں، ہم نے مڈل کلاس نوجوانوں کو ایوانوں میں بھیجا جو شاید سب سے بڑا جرم تھا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ چالیس سالوں سے مستقل کمروں میں یہ بات کرتے رہے ہیں کہ ملک کے چاروں صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے، 1947 میں پاکستان کی آبادی ڈھائی تین کروڑ تھی، آج پچیس کروڑ ہے۔ آبادی کی رفتار سے زیادہ ملک بھر میں ڈویژن بنا دیے گئے مگر صوبے نہیں بنائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو تجویز پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے پیش کی گئی، تمام سیاسی جماعتیں ہم سے اتفاق کر رہی ہیں، تمام سیاسی جماعتوں سے اس سلسلے میں گفتگو کریں گے۔ ایک بڑے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ہم اس کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان بھر میں صوبے بننے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے گناہ میں اس لیے شامل ہوئے تاکہ آرٹیکل 140 اے کے ثمرات کو عوام کی دہلیز تک پہنچائیں، آرٹیکل 140 اے کو عوام کی امنگوں کے مطابق بنایا۔ اب پورے پاکستان میں آرٹیکل 140 اے کی بات کی جا رہی ہے، یہ ہماری تنظیمی اور سیاسی نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہے۔ ہم نے حکومت میں شمولیت سے قبل جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانیوں تک پہنچانے کی شرط رکھی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل موجود ہے صوبہ بنانے کے معاملے پر، ہم دوبارہ آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد نہ ہونے سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں آرٹیکل 140 اے کی قرارداد پیش کی، آپ پنجاب میں جو مطالبہ کر رہے ہیں سندھ میں پابندی لگا رہے ہیں۔ غلامی ختم کرنے کا راستہ نکال دیے ہیں، ہم تو چیخ رہے ہیں۔ ہم غریب مڈل کلاس لوگوں کو نظامت دی گئی، ہم ایک عام سندھی کے مسائل کو سمجھتے ہیں بہتر طریقے سے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی 1966 تک وفاق کا دارالحکومت تھا، انتظامی یونٹس بنانے کی بات سندھیوں کے خلاف نہیں ہے۔ کراچی میں صوبے کی آبادی کے 38 فیصد لوگ رہتے ہیں، یہ شہر دنیا کی تین بدترین رہنے کی جگہوں میں شامل ہوگیا ہے۔ سندھ کے لوگوں کی صورتحال کراچی اور حیدرآباد سے بدتر ہیں، بارہ بارہ کلومیٹر دور سے عورتیں کنویں سے پانی بھر کر لاتی ہیں جہاں سے جانور پانی پیتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس بنیں گے تو سندھ کے لوگ اپنا وزیراعلیٰ تبدیل کردیں گے، 8884 ارب وفاق نے صوبوں کو دے دیے ہیں پہلے دن، 22 ہزار ارب صوبے پر خرچ کرنے کے بعد اسے بدترین شہر بنا دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم میں ہماری ترمیم سے سب نے اتفاق کیا مگر پیپلز پارٹی نہیں مانی، ستائیسویں ترمیم میں بھی سب جماعت مان گئیں مگر پیپلز پارٹی نہ مانی۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ساری انتظامی تحریک کا حصہ بنیں گے، تین سال قبل جب یہاں آرمی چیف آئے تھے انہوں نے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی۔ محسن نقوی بڑے وزیر ہیں، وہ بھی یہی بات کر رہے ہیں، ان کی باتوں کی تائید ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کی۔
فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں استحکام مزید انتظامی یونٹس کے بغیر ناممکن ہے، اسٹیٹس کو ختم نہیں کیا جائے گا تو ملک میں بغاوت ہوگی۔ یہ شہر پورے ملک کا معاشی دارالحکومت ہے، یہ شہر صوبے کو 90 فیصد دیتا ہے، پچپن فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہے۔ ہمارے دور میں یہ شہر دنیا کے 12 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں تھا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ کا اصل دشمن وڈیرہ، جاگیردار اور موروثی سیاست کرنے والا ہے، یہ انتظامی تقسیم ہے، وسائل اور اختیارات کی تقسیم ہے۔ لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص کے انتظامی یونٹس یہاں رہنے والے چلائیں گے، سندھ کے عوام کے وسائل ان کے پاس ہوں گے۔ کرپشن اور بدترین حکمرانی کو ہم پر نہ ڈالیں۔