جھینگر نما کیڑے کی آواز نے نوجوان کو عارضی طور پر سماعت سے محروم کر دیا!

نوجوان کی سماعت مکمل بحال ہونے میں دو ہفتے لگ گئے


ویب ڈیسک August 17, 2026

چین میں ایک 18 سالہ نوجوان کو جنگل میں کئی گھنٹے تک سیکڑوں سیکاڈاز(جھینگر نما کیڑے) کی مسلسل تیز آوازیں سننے کے بعد عارضی طور پر سماعت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

چینی میڈیا کے مطابق ژے جیانگ صوبے کے شہر ننگبو سے تعلق رکھنے والا وانگ نامی نوجوان جنگل میں کیمپنگ کے لیے گیا تھا۔ دوپہر کے قریب اسے سیکاڈاز کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ تیز محسوس ہوئی لیکن وہ شام تک وہیں موجود رہا۔

جنگل سے نکلتے وقت نوجوان کے کانوں میں سیٹیوں جیسی آوازیں اور بھرا بھرا پن محسوس ہونے لگا۔ سیکاڈاز کی آوازیں خاموش ہونے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ پرندوں کی چہچہاہٹ بلکہ اپنے موبائل فون کی نوٹیفکیشن آوازیں بھی نہیں سن پا رہا۔

سماعت مکمل طور پر ختم ہونے کے خوف سے وانگ فوری طور پر اسپتال پہنچا، جہاں معائنے کے دوران دونوں کانوں میں سوجن پائی گئی۔ ڈاکٹروں نے سوجن کم کرنے کے لیے دوا دی اور کم از کم 14 دن تک تیز آوازوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔

خوش قسمتی سے تقریباً دو ہفتوں بعد نوجوان کی سماعت مکمل طور پر بحال ہوگئی۔

نِنگوبو یونیورسٹی نمبر 1 ایفیلیئٹڈ ہاسپٹل کے شعبہ ناک، کان اور گلا کے سینئر ڈاکٹر لی جی کے مطابق بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی آوازیں کانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتیں حالانکہ ایسا ضروری نہیں۔

سیکاڈاز دنیا کے بلند آواز پیدا کرنے والے کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ایک اکیلا سیکاڈا عموماً اتنی تیز آواز پیدا نہیں کرتا کہ سماعت کو نقصان پہنچائے۔ اصل مسئلہ سیکڑوں سیکاڈاز کا بیک وقت مسلسل آوازیں نکالنا ہے۔