ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف

امریکی صدر کی انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطے کیے، رپورٹ


ویب ڈیسک August 16, 2026
کردستان کے صدر نیچروان بارزانی نے پاسداران انقلاب کے سربراہ سے رابطہ کیا—فوٹو: بشکریہ ایکسوئس

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ایرانی اعلیٰ عہدیداروں سے مذاکرات کے دوران پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کیے اور اس کے لیے کردستان ریجن کے صدر نے دونوں جانب سے پیغام رسانی کی اور امریکی خدشات کو دور کیے۔

ایکسوئس نے رپورٹ میں بتایا کہ رواں برس مئی کے وسط میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے والے امریکی مذاکرات کار مخصمے کا شکار تھے اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ جن کے ساتھ وہ مذاکرات کر رہے ہیں آیا وہ واقعی ایران کی طاقت ور فورس پاسداران انقلاب کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ایک غیرروایتی طریقہ اپنایا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطہ کیا اور ان خفیہ رابطوں کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی کا انتخاب کیا کیونکہ ان وہ ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن پرامریکا اور پاسداران انقلاب دونوں کی قیات کا اعتماد تھا۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ یہ تفصیلات مذکورہ معلومات رکھنے والے تین ذرائع نے فراہم کی ہیں اور یہ معلومات اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئیں۔

مزید بتایا گیا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی اور اس کے چند دن بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی اور مئی کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کو ایسا لگا کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں لیکن ایران نے اپنے جواب میں 10 دن سے زیادہ کی تاخیر کی، جس پر وائٹ ہاؤس کے مذاکرات کار یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ ایرانی مذاکرات کار پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کے پاس معاہدہ طے کرنے کے مکمل اختیارات نہیں ہیں اور پاسداران انقلاب ان کے فیصلوں کو منسوخ کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے محسوس کیا کہ پاسداران انقلاب کی قیادت تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ راستے کی ضرورت ہے اور 10 مئی کے قریب اس وقت کی ڈائریکٹرآف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی کو فون کرکے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی سے رابطہ قائم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران عراق جنگ کے دوران بارزانی ایران میں مقیم رہے تھے اور انہوں نے تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، وہ فارسی پر مکمل عبوررکھتے ہیں، اس کے علاوہ ایرانی حکومت کے کئی سینئرارکان بشمول پاسداران انقلاب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی چار صدور کے ساتھ بطور مشیر برائے مشرق وسطیٰ کام کرنے والے بریٹ میک گرک نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ نیچروان بارزانی ایک پریکٹیکل اور مسائل حل کرنے والی شخصیت ہیں، جن کا خطے بھر میں احترام کیا جاتا ہے اور انہیں واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران میں بھی ہر کوئی جانتا ہے اس لیے مشکل وقت میں آپ انہی سے رابطہ کرتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی پر واضح کیا تھا کہ وہ یہ کال صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری سے کر رہی ہیں اور وائٹ ہاؤس یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا جنرل احمد وحیدی اور پاسداران انقلاب کی قیادت ان باتوں سے متفق ہے جو قالیباف اور عراقچی طے کر رہے ہیں، یا ان کے ذہن میں کچھ اور خیالات یا مطالبات ہیں۔

اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ نیچروان بارزانی نے تلسی گبارڈ کی درخواست قبول کرلی اور پاسداران انقلاب میں رابطے کیے، جنرل احمد وحیدی کو براہ راست ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا پیغام پہنچانے کی خواہش ظاہر کی، جس پرایرانی رضامند ہو گئے اور 14 مئی کو پاسداران انقلاب کا ایک اہلکار محفوظ کال کرنے کے لیے انکرپٹڈ فون کے ساتھ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں نیچروان بارزانی کے دفتر پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ براہ راست معلومات رکھنے والے ایک ذریعے کے مطابق نیچروان بارزانی نے فون پر جنرل احمد وحیدی سے پوچھا کہ آیا وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے مؤقف سے متفق ہیں، جس پر ایرانی جنرل نے تصدیق کی کہ میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور یہی پاسداران انقلاب کا مؤقف بھی ہے، ہم اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار سمیت تین ذرائع نے بتایا کہ جنرل احمد وحیدی سے بات چیت کے فوراً بعد نیچروان بارزانی نے تلسی گبارڈ کو فون کیا اور انہیں ایرانی جواب سے آگاہ کیا، جنہوں نے وائٹ ہاؤس کو بریفنگ دی۔

خفیہ رابطوں کی معلومات رکھنے والے ایک ذریعہ کے مطابق ایرانی جواب ملنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ ایک اور تجویز لے آئی اور بتایا کہ امریکا چاہتا ہے نیچروان بارزانی اربیل میں سینئرامریکی اورایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی کریں، جس پر بارزانی نے دوبارہ ایرانی حکام کو پیغام پہنچایا، اس پیغام پرایرانیوں نے امکان رد نہیں کیا لیکن اربیل میں سیکیورٹی کے حوالے سے فکر مند تھے اور ان کا خیال تھا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس عراقی کردستان میں موجود ہے اور انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیلی انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے اور پھر اربیل میں یہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی۔

ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حالات سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاملے سے واقف علاقائی ذرائع کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالث امریکا اورایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نیچروان بارزانی نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس کو پیغامات بھیجے ہیں جن میں امریکا-ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں مدد کی پیش کش کی گئی ہے۔