ایران میں مزید پابندیوں اور مہنگائی کا خدشہ، امریکا اور اسرائیل پر معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام

ملک کو آئندہ مزید اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، نائب صدر


ویب ڈیسک August 17, 2026

تہران: ایران کے نائب صدر اول محمد رضا عارف نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو آئندہ مزید اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ایران کے خلاف معاشی جنگ شروع کردی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق محمد رضا عارف نے مارکیٹ ریگولیشن ہیڈکوارٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکنے کے بعد اب معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے بقول اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سماجی بے چینی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

عارف نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اقتصادی دباؤ میں اضافے کا مقصد ایرانی عوام کو مشکلات سے دوچار کرنا اور اندرونی سطح پر عدم اطمینان کو بڑھانا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو آنے والے دنوں میں پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے مزید اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق نائب صدر اول نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے، تاہم اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

محمد رضا عارف کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسی پر قائم رہے گا۔ انہوں نے معاشی مشکلات کے باوجود حکومت کی جانب سے مارکیٹ کو منظم رکھنے اور عوام کو ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں پر بھی زور دیا۔

ایرانی حکام پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی آمدنی، تجارت، درآمدات اور ملکی کرنسی سمیت مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ مہنگائی بھی ایرانی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد ایران میں معاشی صورتحال پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ دشمن ممالک فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ اقتصادی اقدامات کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

نائب صدر اول کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اگر مزید پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو ایرانی معیشت پر اضافی دباؤ اور مارکیٹ میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔