واشنگٹن: امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کرس وان ہولن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی ضروریات اور مشکلات کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ امریکا کو مزید محفوظ نہیں بنا رہی۔
سینیٹر نے خاص طور پر امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یہ جنگی جہاز تقریباً 9 ماہ سے سمندر میں موجود ہے، جس کے باعث اس پر تعینات فوجی اہلکار طویل عرصے سے اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور ہیں۔
وان ہولن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ان فوجیوں کو درپیش ذہنی دباؤ کے معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اہلکار اور ان کے خاندان اس سے بہتر سلوک کے مستحق ہیں۔
امریکی سینیٹر نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوجیوں کے تحفظ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کی جائے۔ ان کے مطابق جنگ کو جاری رکھنے کے بجائے امریکی فوجیوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن کو ریلیف دینے کے لیے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو خطے کی جانب روانہ کردیا ہے۔ جارج واشنگٹن حال ہی میں ویتنام کی بندرگاہ ڈا نانگ سے روانہ ہوا ہے اور اسے ابراہیم لنکن کی جگہ تعینات کیے جانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
یو ایس ایس ابراہیم لنکن کی طویل سمندری تعیناتی کے باعث امریکی فوجیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔ کرس وان ہولن کی تازہ تنقید سے ایران جنگ، امریکی فوجیوں کی طویل تعیناتی اور جنگ کے انسانی و معاشی اثرات پر امریکا میں جاری بحث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔