پی پی ایل کی خشکی اور سمندر کے کنارے نئے ہائیڈرو کاربن ذخیرے کی دریافت

دریافت سے پاکستان کے کم گہرائی والے سمندری علاقوں کی دریافتی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے


اسٹاف رپورٹر August 17, 2026

کراچی:

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے ضلع سجاول، میں واقع اپنے آپریٹڈ سرانی بلاک کے دریافت شدہ کنوئیں ڈولفن ایکس ون سے گیس کی ایک منفرد اوراہم دریافت کی ہے، یہ جراسک دور کی لوئر انڈس بیسن کی چلتن فارمیشن سے ہائیڈرو کاربن کی سب سے پہلی دریافت ہے۔

اس دریافت کے ساتھ پی پی ایل نے دلدلی زمینی علاقوں اور اس کے متعلقہ کم گہرائی والے سمندری علاقے میں شیلو آف شور میں ممکنہ نئی دریافتوں کے لئے راہیں کھول دی ہیں، جس سے پاکستان کے کم گہرائی والے سمندری علاقوں کی دریافتی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل یہ علاقہ اپنی دشوار گزار جغرافیائی صوتحال کے باعث طویل عرصے سے دریافت کے لیے ناقابلِ رسائی تصور کیا جاتا رہا ہے۔

پی پی ایل کھدائی کا آغاز 17 اپریل 2026 کو کیا گیا اور چلتن فارمیشن میں ہائیڈرو کاربن کے امکانات کی جانچ کے لیے اسے 3,850 میٹر ایم ڈی کی گہرائی تک کھودا گیا۔ ڈولفن ایکس ون کنوئیں کی کھدائی کے نتائج اور حاصل کردہ وائر لائن لاگز کی بنیاد پر ہائیڈرو کاربن پر مشتمل زون کی نشاندہی کی گئی۔

جانچ کے دوران چلتن فارمیشن سے 64/32 انچ چوک سائز اور 211 پی ایس آئی جی ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر پر 1000 بی ٹی یو/ایس سی ایف حرارتی قدر کی حامل یومیہ 0.942 ایم ایم ایس سی ایف کی شرح سے اعلیٰ درجے کی گیس حاصل ہوئی۔

پی پی ایل کے مطابق سیرانی بلاک میں انکا ادارہ آپریٹر کی حیثیت سے 75فیصد کاروباری شراکت کی حامل ہے جبکہ اس کی جوائنٹ وینچر گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کی شراکت25 فیصد ہے۔

اس کنوئیں کو کمپنی کے ماہرین کی صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے کھودا اور جانچا گیا، جس کے نتیجے میں چلتن لائم اسٹون میں ایک نئے ہائیڈروکاربن  پلے کی دریافت ہوئی ہے۔