پشاور:
خیبرپختونخوا پولیس کے افسران کی صدارتی ایوارڈز کے لیے نامزدگی کے معاملے پر صوبائی حکومت نے محکمہ داخلہ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے سوال اٹھایا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے صدارتی ایوارڈز کے لیے نامزد کیے گئے افسران کی تعداد کم کیوں ہوئی اور تمام اہل افسران کے کیسز کو ایوارڈ کے لیے کیوں نہیں بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے صدارتی ایوارڈز کے لیے 47 پولیس افسران کے کیسز صوبائی حکومت کو بھجوائے تھے۔ تاہم، ان میں سے متعدد افسران کے کیسز تاحال محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے پاس موجود ہیں۔
زرائع کہنا ہے کہ 34 پولیس افسران کے کیسز تاحال محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے پاس موجود ہیں جبکہ صرف آٹھ پولیس افسران صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ داخلہ سے افسران کی نامزدگی، کیسز کی پیش رفت اور صدارتی ایوارڈز کے لیے حتمی طور پر بھیجے گئے ناموں سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
زرائع مطابق حکومت یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ پولیس کی جانب سے بھیجے گئے 47 ناموں میں سے کتنے کیسز آگے بھیجے گئے اور کتنے افسران کو صدارتی ایوارڈز کے لیے حتمی طور پر نامزد کیا گیا۔
پولیس افسران کی جانب سے بھی اس معاملے میں شفافیت اور تمام اہل افسران کے کیسز کو میرٹ کی بنیاد پر زیر غور لانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے تفصیلات طلب کیے جانے کے بعد معاملے کی مزید وضاحت سامنے آنے کا امکان ہے۔