کراچی:
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ لینڈ میں مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ، میوٹیشن اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذمہ دار قرار دیئے جانے والے افسران کے خلاف فیصلہ کن محکمانہ کارروائی کی منظوری دے دی ہے، انہوں نے واضح کیا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں بلدیاتی ادارے میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر قانونی سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔یہ کارروائی شہریوں اور دیگر افراد کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ، میوٹیشن اور متعلقہ معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے الزامات کی تفصیلی تحقیقات اور قانون و محکمانہ قواعد کے مطابق ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔انکوائری کے عمل اور مجاز حکام کی جانب سے کی جانے والی محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد کے ایم سی نے ذمہ دار قرار دیے گئے افسران کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر حافظ مغیرہ قادری اور ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان احمد کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعیم الحق کی ترقی بھی انکوائری کے نتائج اور بعد ازاں ہونے والی محکمانہ کارروائی کی روشنی میں واپس لے لی گئی ہے۔کے ایم سی ہیڈ آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ کارروائی ادارے میں نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے کہ سرکاری عہدوں کو ذاتی مفاد یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
میئر کراچی نے کہا کہ ہم ماضی کے اس بوجھ سے نمٹ رہے ہیں جہاں بعض افراد کو اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی، تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہمارے دور میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث شخص کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ہی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں اور کسی افسر کو کراچی کے عوام کی جانب سے سونپے گئے اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میئر کراچی نے کہا کہ افسران کے خلاف کی جانے والی کارروائی وسیع تر احتسابی عمل کا صرف آغاز ہے۔ انہوں نے میونسپل کمشنر کے ایم سی کو ہدایت کی کہ بدعنوانی کے خلاف جامع کارروائی شروع کی جائے اور ان افسران کے زیر التوا محکمانہ انکوائری کیسز کو تیز کیا جائے، تاہم ہر کیس میں قانون، دستیاب شواہد اور شفاف محکمانہ طریقہ کار کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔
میئر کراچی نے میونسپل کمشنر کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا انکوائریوں کا جائزہ لے کر انہیں تیز کیا جائے اور ایسے تمام کیسز میں ایک ماہ کے اندر فیصلے کیے جائیں جبکہ پیشرفت کے حوالے سے جامع رپورٹ میئر کے دفتر میں جمع کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی زمین کی الاٹمنٹ، میوٹیشن اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات کو غیر معینہ مدت تک زیر التوا نہیں رکھا جاسکتا، بالخصوص ایسے معاملات میں جہاں سرکاری اراضی، ادارے کے اثاثے یا شہریوں کے حقوق متاثر ہوتے ہوں۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں غیر قانونی سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ سب کے لیے واضح پیغام ہے کہ جو بھی سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال کرے گا، غیر قانونی لین دین میں سہولت فراہم کرے گا یا محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی کرے گا، اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ کسی عہدے پر فائز ہونے یا ادارے میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے کی بنیاد پر کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
میئر کراچی نے میونسپل کمشنر اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا کیسز کو شفاف انداز میں نمٹایا جائے اور محکمانہ کارروائی میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زمین کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال، منظوری، الاٹمنٹ، میوٹیشن اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ دار افسران مقررہ قوانین اور طریقہ کار پر سختی سے عمل کریں۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کی زمین اور اثاثوں کا تحفظ پورے ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور بلدیاتی اراضی پر غیر قانونی قبضے، منتقلی، الاٹمنٹ یا میوٹیشن کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اندرونی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، موجودہ لینڈ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور محکمانہ طریقہ کار میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کا تدارک ممکن ہو۔
میئر کراچی نے کہا کہ ہمارا پیغام بالکل واضح ہے، سرکاری عہدہ ذاتی مفاد حاصل کرنے کا لائسنس نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ کے ایم سی کی زمین اور اثاثے کراچی کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قانونی اور انتظامی اقدام اٹھایا جائے گا۔ بے ضابطگیوں میں ملوث ثابت ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی جبکہ دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دینے والے افسران کو انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔
اجلاس کے دوران میئر کراچی نے میونسپل کمشنر کو ہدایت کی کہ زمین کی الاٹمنٹ، میوٹیشن اور دیگر متعلقہ شکایات سے متعلق زیر التوا انکوائریوں اور ان میں کی جانے والی کارروائی پر جامع پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی انتظامیہ ادارے میں شفافیت، احتساب اور محکمانہ نظم و ضبط کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھے گی اور جہاں بھی قانونی و محکمانہ طریقہ کار کے تحت خلاف ورزیاں ثابت ہوں گی، وہاں جاری احتسابی عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔