پاکستان میں جنگلی حیات کی مختلف مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کا انکشاف

اسمگلرز قومی اور بین الاقوامی قوانین سے بچنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں


آفتاب خان August 19, 2026

کراچی:

پاکستان میں جنگلی حیات کی مختلف مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کا انکشاف ہوا ہے۔

اسمگلرز جنگلی حیات کی غیرقانونی اسمگلنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ اسمگلرز قومی اور بین الاقوامی قوانین سے بچنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی اور نایاب انواع کی آن لائن خرید و فروخت جاری ہے، خطرے سے دوچار شارک کے فِنز دیگر مصنوعات کے نام پر برآمد کیے جانے کا خدشات برقرار ہیں۔

غیر قانونی وائلڈ لائف ٹریڈ پاکستان کی حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہے۔

غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت مقامی آبادیوں کے روزگار کو بھی متاثر کرسکتی ہے، جنگلی حیات کے تحفظ میں محکمہ وائلڈ لائف اور کسٹمز کا کردار اہم ہے۔

تیکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، محمد معظم خان کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے ساحل سے سمندری کچھوؤں کی غیر قانونی برآمد پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا، سمندری کچھوؤں کے تحفظ میں سرکاری اداروں اور میڈیا کا تعاون مؤثر ثابت ہوا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق میڈیا نے غیر قانونی وائلڈ لائف ٹریڈ کے خلاف آگاہی میں اہم کردار ادا کیا، خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔