کے ٹو ائیرویز حادثے کے 40 روز مکمل، لواحقین کو پیاروں کی لاشیں ملیں، نہ انصاف ملا

حادثے میں لاپتہ ہونے والےعملے کے 5 اراکین کے لواحقین کو کمپنی مالک کو دبئی سے لاکر شامل تفتیش کرنے کا بھی مطالبہ


آفتاب خان August 18, 2026
فوٹو بی بی سی

گوادر کے قریب گر کر تباہ ہونے والے کے ٹو ائیرلائن کے کارگو طیارے کے متاثرین کے اہل خانہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے تحقیقات میں فوری اقدامات، شفافیت اور فضائی سلامتی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کپتان رضوان ادریس کے بیٹے یاشیب رضوان نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں کی۔ ان کے ہمراہ حادثے میں جان بحق ائیرکرافٹ انجینئر عارف صدیقی،کپتان فیصل جتوئی اور ائیرکرافٹ انجینئر محمد حامد کے بیٹے بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کو چالیس سے زیادہ دن گزرنے کے باوجود ہمیں بنیادی سوالات کے جواب نہیں ملے۔ اس حادثے کے بعد سے ایuرلائن انتظامیہ مسلسل غائب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ سپورٹ نہیں ملی جو اس المناک حادثے کے بعد متاثرین کو ایئرلائن کی جانب سے ملنی چاہیے تھی، ائیرلائن کے چیف ایگزیکٹو طارق مجید راجہ نے متاثرین کو فون پر بلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ائیرلائن کے مالک طارق مجید راجہ کو دبئی سے واپس لایا جائے اور تحقیقات میں شامل کیا جائے، حکومت ائیرلائن انتظامیہ کو مجبور کرے کہ گہرے سمندر میں تلاش کا کام شروع کرے۔

متاثرین نے کہا کہ گہرے سمندر کے اندر تلاش کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوئی پاکستان کے ایوی ایشن قوانین کے مطابق طیارے کی تلاش کا کام ائیرلائن کا ہے۔ گہرے سمندر میں تلاش اور بلیک باکس کے ملنے تک حادثے کی تحقیقات نامکمل رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایسی کسی تحقیقاتی رپورٹ کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں بلیک باکس سے ملنے والی معلومات شامل نہ ہوں، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کی بازیابی کو اولین ترجیح دی جائے۔

متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے کہا کہ اس طیارے میں گزشتہ چھ ماہ سے نیوی گیشن آلات میں خرابی کی اطلاعات تھیں۔ شارجہ سے جب طیارہ روانہ ہوا تو ائیرلائن کے مالک کی موقع پر موجودگی کی بھی اطلاع تھی۔ طیارے کی منٹیننس ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

متاثرین نے شکایت کی کہ ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے خاندان کا قانونی اسٹیٹس حادثے کے چالیس دن بعد بھی واضح نہیں، نادرا ہمارے والد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر رہا۔ نادرا حکام کا کہنا ہے ہمارے پاس لاپتہ فرد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کوئی قانون نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اپنا ایک نمائندہ مقرر کرے جو لواحقین کی قانونی معاملات میں مدد کرے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی ائیرلائن کا لائسنس معطل رکھا جائے۔اہل خانہ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف متاثرہ پانچ خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی فضائی سلامتی اور سول ایوی ایشن نظام پر عوام کے اعتماد کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان مطالبات کا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام حقائق ایک مکمل، آزادانہ اور شواہد پر مبنی تحقیقات کے ذریعے سامنے لائے جائیں۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو کے 2 ایئرویز کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آتے ہوئے اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر گیا تھا، حادثے میں 5 افراد لاپتہ ہوئے تاہم کسی بھی شخص کی لاش نہیں مل سکی۔