کراچی اور پانی

واٹر کارپوریشن نے ستمبر 2024میں پانی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیوریج چارجز میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔



حسن امام صدیقی سینئر سٹیزن ہیں۔ کراچی کے معروف علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے کمرشل ایریا میں رہتے ہیں، ساری زندگی بلدیہ کراچی میں ملازمت کی۔ ڈائریکٹرکے عہدے سے ریٹائر ہوئے، ان کے گھر پر پانی نہیں آتا۔ حسن امام صدیقی کراچی کی ادبی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں۔

کراچی پریس کلب کے رکن ہیں اور کے پی سی سمیت مختلف صحافتی تنظیموں کے انتخابات کے لیے صحافی ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ان کے رشتے داروں اور دوستوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ خاصے بااثر ہیں مگر صدیقی صاحب گزشتہ ایک سال سے واٹر بورڈ اور کراچی کی انتظامیہ کے افسران کو متعدد خطوط لکھ چکے ہیں اور اخبارات اور سوشل میڈیا پر خبریں شائع اور وائرل ہوتی رہتی ہیں مگر ان کا فیلٹ پانی سے محروم ہے۔ حسن امام کے لیے ایک بری خبر یہ ہے کہ کراچی واٹر کارپوریشن نے پانی کے نرخ میں 7.05 فیصد اضافہ کیا ہے۔

گزشتہ 2برسوں کے دوران دوسری دفعہ یہ اضافہ ہوا ہے۔ واٹر کارپوریشن نے ستمبر 2024میں پانی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیوریج چارجز میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت سندھ کے اعلامیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس فیصلے پر متفق ہوئے ہیں کہ رہائشی پلاٹوں کے لیے پانی اور سیوریج کے چارجز پلاٹ کے سائز کے مطابق وصول کیے جائیں گے اور مختلف کمرشل اسٹبلشمنٹ کے لیے فکسڈچارجز ہونگے۔

حسن امام صدیقی تو خوش قسمت ہیں کہ ان کے ہاں کبھی کبھی پانی آجاتا ہے کراچی کے متوسط اور نچلے طبقہ کی آبادیوں میں نلکوں میں پانی آتا ہی نہیں ہے۔ ایک اخباری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسن امام صدیقی واحد شہری نہیں ہیں بلکہ کراچی کے لاکھوں لوگوں کے گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ کراچی کے متوسط طبقہ کی بستی گلشن اقبال کے ایک مکین محمد عرفان نے ایک سروے میں بتایا کہ ان کے علاقے میں مہینہ میں دو سے تین دن پانی آتا ہے۔ محمد عرفان کا کہنا ہے کہ وہ اور محلہ والے نہ صرف باقاعدگی سے واٹر کارپوریشن کے بل ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پانی کے ٹینکروں کی خریداری پر بھی علیحدہ سے رقم خرچ کرتے ہیں۔

ماڈل کالونی کی رہائشی سعدیہ بٹ نے واٹر کارپوریشن کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بجلی اور گیس کے ساتھ پانی کے بل بھی بھاری رقوم کے ساتھ ملیں گے۔ کھوکھراپار کے ایک دکاندار عبدالغفور کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں واٹر کارپوریشن کا ہر ماہ بل آتا ہے جو سب ادا کرتے ہیں مگر پانی برسوں سے نہیں آیا۔ صدر کے علاقے میں رہنے والے ایک فرد کا کہنا ہے کہ حکومت ہر شہری سے بنیادی سہولتوں کے نام پر بل تو وصول کرتی ہے مگر عام آدمی کو کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے۔ واٹر کارپوریشن میں طویل عرصے سے فرائض انجام دینے والے ایک لائن مین کا کہنا ہے کہ وہ صبح 6بجے اپنی ڈیوٹی پر آجاتے ہیں، مین لائن میں پانی نہیں آتا ، وہ سارا دن انتظار کرتے رہتے ہیں اور شام کو واپس چلے جاتے ہیں اور اب یہ ان کا معمول ہوگیا ہے۔

 کراچی میں صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے پانی کی نکاسی کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی میں ان مسائل کے حل کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ادارہ جاتی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ حکومت نے کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے The Greater Karachi Water Scheme کا منصوبہ 2002ء میں شروع کیا تھا۔ اس منصوبہ کے ابتدائی تخمینہ 150 بلین روپے کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے لیے 650 ملین گیلن پانی ملتا تھا مگر یہ منصوبہ 24 سال گزرنے کے باوجود مکمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ 2020 میں واپڈا کو اس منصوبہ کا ٹھیکہ دیا گیا مگر واپڈا والے بھی اس منصوبے کو اب تک مکمل نہیں کرپائے۔ واپڈا کے اہلکار اس التواء کی ذمے داری حکومت سندھ پر عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اپنے حصہ کا کام نہیں کیا۔

حکومت سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے حصہ کی رقم ادا نہیں کی۔ وفاق نے اس مالیاتی سال کے بجٹ میں K4 واٹر سپلائی منصوبہ کے لیے کوئی رقم نہیں رکھی تھی۔ واٹر کارپوریشن کے ایک سابق انجینئر جو اس منصوبے سے منسلک رہے ہیں ،یہ پیشگوئی کرتے ہیں کہ 2050تک منصوبہ مکمل نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے مکمل نہ ہونے کی ایک وجہ سندھ حکومت کا مایوس کن رویہ ہے۔

جب شہر بھر سے نلکوں میں پانی نہ آنے کی شکایتیں بہت زیادہ ہوگئیں تو حکومت سندھ کے کسی دانشور افسر نے تجویز دی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کے ہائیڈرنٹ بنائے جائیں جہاں سے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے۔ پہلے حکومت نے مفت میں ٹینکر فراہم کرنے کی اسکیم شروع کی، پھر ٹینکر کے چارجز لیے جانے لگے۔

ٹینکر والے مہنگے داموں پانی فروخت کرنے لگے۔ واٹر کارپوریشن کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ کوئی غریب شخص برسوں پہلے واٹر بورڈ کے عملہ کے پاس آیا اور اپنے ٹرک سے متاثرہ آبادیوں میں پانی کی فراہمی کی اجازت طلب کی، یوں اب اس شخص کی دولت کروڑوں سے اربوں تک پہنچ گئی ہے۔ کراچی شہر میں ایک ہزار سے زیادہ ٹینکر گردش کرتے نظر آتے ہیں اور یہ کمرشل بنیادوں پر پانی فراہم کرتے ہیں۔ کئی اور افراد اس کاروبار میں آگئے۔ یوں ایک مافیا وجود میں آگئی۔کراچی شہر میں بعض پوش علاقوں کے مکین بھی ٹینکروں سے پانی خریدتے ہیں۔

 پیٹرو ل اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی بناء پر کراچی کی آبادی کی اکثریت اب ٹینکروں سے پانی نہیں خرید سکتی۔ اس بناء پر بورنگ کا طریقہ کار عام ہوگیا ہے۔ کراچی میں بورنگ کرنے والے تین لاکھ روپے تک معاوضہ لیتے ہیں۔ اب کراچی کے کچھ علاقوں میں میٹھا پانی زمین سے نکل آتا ہے مگر اکثر علاقوں میں کھارا پانی ہی نکلتا ہے۔ یہ پانی مضر ِ صحت ہے۔ جو لوگ کھانے پکانے کے لیے منرل واٹر نہیں خرید سکتے وہ لوگ یہ خراب پانی ہی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں کینسر، دل اور جلدی امراض عام ہیں، پیٹ کی بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں۔ مسلسل زمین سے بورنگ کی بناء پر زمین دھنسنا شرع ہوگئی ہے اور اس کے نیچے عمارتوں کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔

ہفتہ میں تین چار دن بعد واٹر کارپوریشن کا پی آر او یہ میڈیا پر خبر شائع اور وائرل کرتا ہے کہ دھابیجی پر اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے پائپ لائن پھٹ گئی، یوں شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل رہے گی۔ اس جدید ترین دور میں جب بلاول بھٹو زرداری کراچی کا موازنہ لندن اور نیویارک سے کرتے ہیں وہ اپنے رہنماؤں کو یہ ہدایت نہیں کرسکتے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے متبادل توانائی کا ویسا ہی نظام بنایا جائے جیسا بلاول ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس، ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں قائم ہوا ہے؟

 کراچی کے تمام علاقوں میں سیورج کی لائن عرصہ ہوا ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔ شاہراہ فیصل، شاہراہ قائدین، کلفٹن اور ڈیفنس جانے والی سڑکیں ہوں یا متوسط اور غریب طبقہ کے علاقوں کی سڑکیں، ہر وقت گندا پانی سڑکوں پر بہتا ہے۔ بعض علاقوں میں تو یہ گھروں کے سامنے اور بعض علاقوں میں گھروں کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ نے ان مسائل کے حل کے لیے کراچی واٹر کارپوریشن بنائی۔ سیوریج کے پانی کی شکایت اور کوڑے کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک اور کارپوریشن قائم ہوئی جس کے افسروں کو ہر ماہ کروڑوں روپے تنخواہوں اور الاؤنس کی مد میں ملتے ہیں مگر نہ تو سیوریج کا مسئلہ حل ہوتا ہے، نہ گلیوں سے کوڑا ہٹایا جاتا ہے۔

 میئر کراچی مرتضیٰ وہاب ہر روز شہر کے کسی نہ کسی علاقے میں نئی ترقیاتی اسکیم کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں مگر شہر میں پینے کے لیے پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا نہ سیوریج کا پانی سڑکوں اور گلیوں سے غائب ہوا۔ مسئلہ کا حل ایک سپر کراچی میونسپل کارپوریشن کے قیام میں مضمر ہے جس کا دائرہ پورے شہر میں ہو اور کونسلر اور یونین کونسل کو مکمل بااختیار کیا جائے۔