اسلام آباد ہائیکورٹ: بھونگ انٹر چینج منصوبے کے فنڈز کے اجرا کے لیے پلاننگ ڈویژن کو آخری مہلت

900 ملین روپے ہم نے آئندہ سال کے لیے ڈیمانڈ کیے ہیں، ابھی تک ہمیں وہ پیسے نہیں ملے


ویب ڈیسک August 20, 2026

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملتان سکھر موٹروے پر بھونگ انٹر چینج کی تعمیر سے متعلق کیس میں پلاننگ ڈویژن کو فنڈز جاری کرنے کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

جسٹس محمد آصف نے پراجیکٹ کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے افسر سے مکالمے میں کہا سیکریٹری صاحب کو جا کر بتا دیں فنڈز جاری کرنے کے لیے آخری مہلت دے رہے ہیں، اگر فنڈز اب بھی جاری نہ کیے گئے تو سیکریٹری کو بلا کر ان پر چارج فریم کریں گے۔

جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار رئیس منیر اور ان کے وکیل وقار رانا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

وکیل وقار رانا نے کہا عدالت کو بار بار زحمت دے رہے ہیں، یہ آرٹیکل 187 کے تحت عمل درآمد کا کیس ہے، این ایچ اے، پلاننگ اور فنانس سب نے کہا تھا ایک سال میں یہ پراجیکٹ مکمل کریں گے، پراجیکٹ اڑھائی سال پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا۔

وکیل وقار رانا نے کہا اب فنانس اور پلاننگ والے فنڈز نہیں دے رہے، تقریباً 50 فیصد کام پراجیکٹ کا مکمل ہو چکا ہے۔ این ایچ اے کے وکیل نے کہا یہ پراجیکٹ پی ایس ڈی پی کا ہے، ہم نے عمل درآمد کرانا ہے، 900 ملین روپے ہم نے آئندہ سال کے لیے ڈیمانڈ کیے ہیں، ابھی تک ہمیں وہ پیسے نہیں ملے، پلاننگ والے بتا سکتے ہیں فنڈز کیوں نہیں دے رہے۔

وکیل وقار رانا نے استدعا کی کہ کمیشن جا کر پراجیکٹ کی جگہ دیکھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، پچھلی دفعہ بھی کمیشن کا آرڈر کیا گیا تھا لیکن وہ پھر ہوا نہیں۔ وکیل نے کہا جب تک سیکریٹری پلاننگ کو نہیں بلائیں گے تب تک یہ کچھ نہیں کریں گے، سیکریٹری پلاننگ اور فنانس ڈویژن توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، آرٹیکل 187 میں سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل درآمد کرانا ہے، ہمیں اس کیس میں آتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں۔

جسٹس محمد آصف نے لا افسر سے مکالمے میں کہا پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا، تین سال گزر چکے ہیں۔ لا افسر نے کہا ابھی سیکریٹری کو نہ بلائیں، میں ہدایات لے لیتی ہوں۔

جسٹس محمد آصف نے لا افسر کو ہدایت کی کہ سیکریٹری صاحب کو بتا دیجیے گا، آخر مہلت دے رہے ہیں ورنہ چارج فریم کریں گے۔

وکیل وقار رانا نے کہا پراجیکٹ کی جگہ مسئلہ بنا ہوا ہے کہ پراجیکٹ ابھی مکمل نہیں ہوا، لوگ غیر قانونی طور پر اس کا استعمال کرتے ہیں، ٹریفک پولیس نے کہا ہے اس سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے بار بار استدعا کی کہ کمیشن بنا کر انسپکشن کروا لی جائے۔

عدالت نے سیکریٹری پلاننگ کو فنڈز کے اجرا کے لیے حتمی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی۔